اقتصادی راہداری سے ذہنی راہداری تک ” محمد کریم احمد ، بیجینگ ، چائنہ”

0

اقتصادی راہداری سے ذہنی راہداری تک

ابنِ انشاء نےکہا تھا کہ  ” چلتے ہو تو  چین کو چلیے”  ۔ یہ تو ان کا سفر نامہ تھا جس کی روداد انہوں نے لکھی ۔ جس میں اس دور کے چین کا ذکر تھا ۔ آج کا چین  بدل چکا ہے۔ یہاں پر آپ کو  بلندو بالا عمارات، سڑکوں پر  دوڑتی نت نئے ماڈلز کی گاڑیاں، ہاتھوں میں آئی  فون اٹھا ئے  چینی  مردوزن  نظر آتے ہیں۔

بائسیکلز جو کبھی بیجینگ میں عام ہوا کرتی تھیں اب  ”  ناپید” ہوتی جارہی ہیں۔  خوشحالی نے سماجی رویوں اور  تصورا ت کو بھی بدل ڈالا ہے۔  اب شائد سائیکل پر سوار  شہری    کی ” خاموش  سماجی درجہ بندی  ” اس کے ساتھ   برتاو  کا تعین کرتی ہے۔

تاریخ  کا یہ سبق  ہے کہ ہر ترقی یافتہ  یا  ترقی کی جانب گامزن قوم  اپنی زبان اور کلچر کے فروغ کو پسند کرتی ہے ۔ اور یہی رویہ چین کا بھی ہے ۔  چین دنیا بھر میں اپنی زبان کو پھیلانے کا  خواہشمند ہے اور اس کے لیے کو ششیں بھی کر رہا ہے۔ چین کنفیوشس سنڑ کے ذریعے  عالمی سطح پر  چینی زبان کو  سکھا ر ہا ہے۔

پاکستان میں بھی کنفیوشس مرکز کا م کر  رہا ہے اس کے تحت  کئی وفود مختلف ورکشاپس، سمرکیمپس ، تربیت کے لیے  چین کا دورہ کرچکے ہیں۔

بیجینگ میں بیجینگ لینگوئج اینڈ کلچرل یونیورسٹی    چین اور دنیا بھر میں  چینی زبان و ادب کی تدریس کے  لیے مشہور ہے ۔  افریقہ،  یورپ، لاطینی امریکہ، سنڑل ایشیاء ، جنوبی ایشیاء اور دنیا کے تمام خطوں سے لوگ یہاں  چینی زبان سیکھنےکے لیے آتے ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی دوستی کی مثال دنیا  بھر میں دی جاتی ہے ۔یہ بات حقیقت ہے کہ چین نے  بہت سے پاکستانی طالب علموں کو   سکالرشپ دیے ہیں۔ پاکستانی طالب علم چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں   انجینیرنگ، طب، سوشل سائنسز، زراعت، نیچرل سائنسز  کے شعبوں  میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اقتصادی راہداری  کے منصوبے سے پاکستان اور چین میں چینی زبان سیکھنے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئِی ہے ۔ اب  بہت سے ادارے اور افراد  نجی طور پر چینی زبان سیکھ رہے ہیں تا کہ اقتصادری  راہداری سے ہونے والے ممکنہ اثرات سے فائدہ اٹھا یا جا سکے ۔

صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی نے  نوجوانوں کو چینی زبان سکھانے کے لیے  سکالر شپ  کا اہتمام کیا ہے  ۔ صوبائی حکومت نے  پنجاب کے مختلف اضلاع سے منتخب  نوجوان طلباء  اور طالبات کو   چینی زبان سیکھنے کے لیے چین بھیجا ہے۔ یہ طلباء دو سال کے لیے آئے ہیں  اور  چینی زبان  میں ایچ ایس کے فائیو  لیول  کا سرٹیفیکیٹ حاصل کریں گے۔   یہ چھیاسٹھ  طلبا ء ہیں ۔ ان میں گلگت بلتستان کے طلباء سمیت  اٹھارہ طالبات  بھی شامل ہیں ۔ ان تمام طلباء کی ٹیوشن فیس، ہاسٹل کے واجبات  کی ادائیگی پنجاب حکومت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان طلباء کو   ماہانہ  دو ہزار آٹھ سو یوان  وظیفہ بھی دیا جارہا ہے۔   حکومت سے معاہدے کے تحت یہ طلباء چینی زبان سیکھنے کے بعد  تین سال تک   پنجاب حکومت کے احکامات کے تحت کام کریں گے۔

اگر  طلباء اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ان کے لیے یہ آپشن بھی ہے کہ وہ دو سالوں کے بعد چینی زبا ن میں چار سالہ گریجویشن میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ اور اس کی بھی فیس پنجاب حکومت ادا کرے گی۔

یہ حکومت پنجاب کا ایک اچھا قدم ہے کہ اس نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی زبان سیکھنے کے لیے باقاعدہ  اہتمام کیا اور طلباء کو  سرکاری خرچ پر بھیجا۔

اگر   یہ جائنرہ لیا جائے کہ  ان طلباء کی  خدمات کہاں کہاں استعمال ہو سکتی ہیں  تو  وہ فی الوقت درج ذیل شعبے نظر آتےہیں۔

ا۔ چینی زبان کی تدریس،

۲۔مترجم

۳۔ ٹور گائیڈ

جہاں تک تدریس کا تعلق ہے تو وہ صرف ابتدائی سطح  کی چینی زبان ہی پڑھا سکیں گے۔پنجاب میں ابھی تک  سرکاری تعلیمی اداروں میں چینی زبا ن  نہیں پڑھائی جارہی ہے ۔ اگر یہ چھیاسٹھ طلباء  اپنے کورس کی کامیاب تکمیل کے بعد واپس آ بھی جائیں تو  یہ کہاں کہاں پڑھائیں گے۔؟

فی الوقت  یہ  پاکستان میں مختلف  منصوبوں میں کام کرنے والے چینی ماہرین اور پاکستانیوں کے درمیان رابطہ کاری کے فرائض  سر انجام دیں گے یا  دورے پر آئے ہوئے چینی وفود کے لیے مترجم کا کردار ادا کریں گے۔

پنجاب حکومت کا یہ منصوبہ قابلِ تحسین ہے مگر پاکستان کو ضرورت ٹیکنالوجی میں جدت اور اختراعات کی ہے ۔ چین نے اپنی ضرورت کے مطابق اشیاء اور  روزمرہ  سہولت کی چیزیں بنائی ہیں۔ چینی زبان سیکھنے کی اہمیت سے انکارنہیں ہے مگر  چین  سے اچھے تعلقات  کا فائدہ  ٹیکنالوجی سیکھنے اور اس کی منتقلی میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

محمد کریم احمد ، بیجینگ ، چائنہ

 

 

LEAVE A REPLY