Nawaz XiJin Ping Meeting by RAZA KHAN (SPECIAL CORRESPONDENT OF BATIE GHAR NEWSPAPER)

0

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے سب سے بڑے تجارتی منصوبے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا اہم ترین جز ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نواز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات  کے دوران کیا ۔ وزیر اعظم نوازشریف چاروں وزرائے اعلی اوردیگر اعلی حکام کے ساتھ ان دنوں چین کے دورے پر بیجنگ آئے ہوئے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد بیجنگ میں منعقد ہونے والی ون بیلٹ ون روڈ کنفرنس میں شرکت کرنا ہے۔ گریٹ ہال چائنا آمد پر چینی صدر نے پاکستان وفد کا خیرمقدم کیا۔وزیراعظم نواز شریف اورچینی صدر کے درمیان ملاقات میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر چینی صدر نے پاکستان کے ساتھ کثیرالجہت تعاون اورتعلقات کومزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ چینی صدرشی جن پنگ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک سی پیک سمیت دیگرعلاقائی منصوبوں کی مدد سے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک کو عملی شکل دینے پر پاکستان چین کے عزم کا معترف ہے جبکہ پاکستانی حکومت اقتصادی راہداری منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے پر بھی زور دیا۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف نے چینی ہم منصب لی کھا چیانگ سے ہونے والی ملاقات میں سی  پیک کے تحت منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم ہائوس سے جاری بیان کے مطابق نواز شریف نے چینی وزیراعظم کو ون بیلٹ ون روڈ فورم کے انعقاد پر مبارک باد دی۔  وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کو انتہائی اہم دوست سمجھتا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ فورم میں چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت پاکستانی وفد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری قوم سی پیک پر یکساں موقف رکھتی ہے۔ دوسری جانب اس فورم میں شرکت کے موقع پر پاکستان اور چین کے تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے کئی معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔ ان میں مرکزی ریلوے ٹریک ایم ایل ون کی بہتری ، حویلیاں میں خشک بندرگاہ کی تعمیر کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت اورگوادر بندرگاہ، ایسٹ بے ایکسپریس وے کے لیے 3ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی معاشی و تکنیکی معاونت کے منصوبے شامل ہیں۔ بعد ازاں توانائی ماہرین کے وفد سے ملاقات کے بعد خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ مستحکم اور پائیدار ترقی کے لیے توانائی کے شعبے پر توجہ دی جارہی ہے جبکہ توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی میں خود کروں گا۔  ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو نہ صرف توانائی کے شعبے میں حمایت کی ضرورت ہے بلکہ پانی کی کمی پر قابو پانے کے لیے میگا پراجیکٹس کے آغاز کی بھی ضرورت ہے، جبکہ بھاشا ڈیم کی تعمیر اس حوالے سے ایک اہم اقدام ہے

LEAVE A REPLY