Belt and Road Initiative Report by RAZA KHAN (SPECIAL CORRESPONDENT OF BATIE GHAR NEWSPAPER)

0

بیجنگ {رضا خان } چین کے صدرشی چنگ پنگ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ون بیلٹ ون روڈ وژن کا علمبردارایک تاریخی منصوبہ ہے۔ گواردر بندرگاہ پر تعمیراتی اور ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ فورم کے تحت دنیا کی چھ تجارتی راہداریوں کو ایک دوسے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ ون بیلٹ ون روڈ فورم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اوراحترام کا رشتہ ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اتوارکے روز ون بیلٹ ون روڈ فورم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر شی چنگ پنگ نے کہا کہ چار سال کے قلیل عرصے میں تیس ممالک ون بیلٹ ون روڈ فورم کا باضابطہ حصہ بن چکے ہیں جبکہ مستقبل میں مزید ممالک منصوبے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ چینی صدر نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے بنیادی اصولوں میں تجارتی شراکت داری، مشترکہ پالیسی سازی ، مالیاتی رابطہ سازی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرشامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو سے زائد ممالک اوربین الالقوامی ادارے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی حمایت کرچکے ہیں۔ شی چنگ پنگ نے کہا کہ چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت سلک روڈ فنڈ کے لیے ابتدائی طور پر چودہ ارب  پچاس کروڑ ڈالرز مختص کر دیے گئے ہیں۔ چائینہ ڈیویلپمنٹ بینک اور ایکسپورٹ ایمپورٹ بینک آف چائنہ بالترتیب چھتیس ارب بیس کروڑ ڈالرزاوراٹھارہ ارب اسی کروڑ ڈالرزبنیادی ڈھانچے کی تعمیراورصنعتی صلاحیت کے فروغ کے لیے استعمال کریں گے۔ ایشین انفراسٹرکچر بینک نے ون بیلٹ ون روڈ فورم کے رکن ماملک میں نو منصوبوں کے لیے ایک ارب سترکروڑ ڈالرزفراہم کردیے ہیں۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ شاہراہ ریشم فنڈ کی جانب سے چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ کے ترقی پذیر رکن ممالک میں ہنگامی حالات کے دوران غذا کی فراہمی پر انتیس کروڑ ڈالرز خرچ کرے گا جبکہ ایک ارب ڈالرز سائوتھ سائوتھ تعاون کے لیے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین فورم کے رکن ممالک کے لیے دس ہزارسکارشپس بھی فراہم کرے گا جس میں تعلیمی وظائف اور پروفیشنلز کی تربیت کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ فورم کے رکن ممالک تنازعات سے گریز کرتے ہوئے باہمی اعتماد اور احترام کی فضا کو فروغ دیں گے۔ ون بیلٹ ون روڈ فورم سے خطاب میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے کہا کہ چین کا ’ایک خطہ ایک سڑک‘ منصوبہ خطے کے تمام ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے خطے کے تمام ممالک سمیت دنیا بھر کے 65 ممالک مستفید ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس راہداری کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیزی سے مکمل ہورہے ہیں جوغربت کے خاتمے کے باعث بنیں گے۔ان منصوبوں سے معاشی خوشحالی بڑھے گی جبکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی وجہ سے دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’ایک خطہ ایک سڑک‘ منصوبے سے خطے میں موجود ممالک کے درمیان تنازعات کے بجائے تعاون کو فروغ ملنا چاہیے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ چین میں اس فورم کا انعقاد تاریخی موقع ہے‘ علاقائی روابط کے منصوبوں میں بے مثال سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے بین البراعظمی تعاون کا نیا دور شروع ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ 3 براعظموں کو ملا رہا ہے، منصوبے سے ایشیا، افریقا اور یورپ کو آپس میں ایک دوسرے سے ملانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ سرحدوں کا پابند نہیں ہے، یہ منصوبہ تمام ممالک کیلئے کھلا ہے اور اس سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے باعث دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر فورم سے خطاب کرتے ہوئے دیگر سربراہان مملکت نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کو ترقی پذیر ممالک کے اپنی معیشتوں کو سنوارنے کا بہترین موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کی خطے کے تمام ممالک چین کے اس وشن سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے دنیا کی نصف سے زائد آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں

LEAVE A REPLY