Ammar Asif Ammarلیڈی ڈیانا سے سٹیفن ہاکنگ تک۔۔۔۔۔۔

0

میں 1985 میں پیدا ہوا ۔ بچپن کی یاداشتوں میں میرے ذہن کے اہم واقعات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ کی فتح،جوینجو کا پی ٹی وی پر قوم سے خطاب اور لیڈی ڈیانا کی موت کی خبر کی ہلکی ہلکی جھلکیاں شامل ہیں۔اس کے علاوہ چند دوسرے چیدہ چیدہ واقعات شامل ہیں۔اور اب سٹیفن ہاکنگ کی موت کی خبر بھی مجھ ادھیڑ عمر کی یاداشتوں کا مجموٰعہ بن گی ہے۔ سٹیفن ہاکنگ کی موت کی خبر سن کر دھچکا سا لگا جیسے کوہی قریب کا عزیز دارفانی سے کوچ کرگیا ہو۔اور اور ایسا کیوں نہ لگے میں سمجھتا ہوں کہ علم کی پیاس کے راہی ہمیشہ ایک کنبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ ایک غیر معمولی ذہن کے مالک انسان تھے ۔کرہ ارض پر انھیں آین سٹاین کے بعد جدید سائنس کا سب سے بڑا سائنس دان مانا جارہا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ 1942 میں پیدا ہوے۔21 سال تک نارمل انسان کی سی زندگی گزاری۔1963 میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حا صل کر رہے تھے کہ اچانک ایک ڈرامائی بیماری میں مبتلا ہو کر 1965 میں تک وہیل چیر پر آگے۔ یہاں تک کہ گردن ایک طرف کو جھک گی اور خوراک اور واش روم کےلیے بھی محتاج ہو گے۔ یہاں سے سٹیفن ہاکنگ کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ شروع ہوتا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے سائنس کا طالب علم ہو کر میڈیکل سائنس کو شکست دی وہ اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے اپنی بیماری کی وجہ سے دلبرداشتہ نہیں ہوےَ۔ کیمبرج یونیورسٹی کی آئی ٹی ٹیم کے ما ہرین نے ان کے لیے ایک ٹاکنگ کمپوٹر ایجاد کیا۔ یہ کمپوٹر سٹیفن ہاکنگ کی پلکوں کی حرکت کو سمجھ کر وہیل چیر پہ نصب اسکرین پر منتقل کرتا اور ساتھ ہی نصب اسپکیر سے اس تحریر کہ الفاظ ادا ہو جاتے۔ غالباَ پوری دنیا میں سٹیفن ہاکنگ وہ واحد انسان تھے جو پلکوں کی چلمن سے کمال ادا ڈھاتے تھے۔ انھوں نے اسی ادا کے ذر یعے بہت سی کتابیں بھی لکھیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب اے بریف ہسڑی آف ٹائم تھی ۔ جو دینا بھر میں 237 ہفتے تک بیسٹ سیلر رہی یعنی کم وبیش ساڑھے چار سال تک اس کتاب کو خریدا اور پڑھا جاتا رہا ۔ سٹیفن ہاکنگ نے 1990 میں ایک نہایت ہی منفرد اور شاندار کا م شروع کر دیا۔ انھوں نے مختلف اداروں اورجامعات  میں مایوس لوگوں کے لیے لیکچر دینا شروع کر دیے۔وہ اسٹیج پر بیٹھ کر ٹاکنگ کمپوٹر کے ذریعے کوگوں کو بتاتے کہ مایوسی گناہ ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ اس معزوری کے باوجود کامیاب ہو سکتے ہیں تو وہ سارے لوگ جن کے ہاتھ پا وّں سلامت ہیں جو چل پھر سکتے ہیں دونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے ہیں۔ جو کھا پی سکتے ہیں جو قہقہ لگا سکتے ہیں ۔وہ اپنے تمام خیالات کو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں ۔ وہ کیوں مایوس ہیں۔ ایک دفعہ کسی نے سٹیفن ہاکنگ سے سوال کیا کہ وہ کونسی دریافت ہے جیسے آپ اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں جوہری ادغام کو روزمرہ کی توانائی کی ضروریات میں ضم ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ کوئ ایسا توانائی کا عملی راستہ دریافت ہو جس سے توانائی کا نہ ختم ہو نے والا ذریعہ متعارف ہو جس سے نہ آلودگی کا خطرہ ہو  اور نہ گلوبل وارمنگ یعنی زمینی تپش کا۔ ان کے مطابق نظام شمسی میں ایسی کوئ جگہ نہیں جہاں قدرتی طور پر زندگی فروغ پاسکے اس لیے اگر زمین انسانوں کے رہنے کے قابل نہ رہی تو انسان کی بقا کو خطرہ لاحق ہو جاے گا۔اگر انسان اپنی بقا زمین کے علاوہ کہیں   چاہتا ہے تو اسے ستاروں پہ کمند ڈالنی  ہو گی جس کے لیے ابھی نوح انسانی کو بہت وقت درکار ہے۔ سٹیفن ہاکنگ کا سب سے بڑا کارنامہ بلیک ہول کی دریافت تھا۔ اس تھیوری کے مطابق دینا کا وقت الث بگ بینگ تھا ۔اور اس کے بعد بلیک ہول کے ذریعے دنیا آج تک پھلتی پھولتی  جارہی ہے۔ اور اس عمل کا کوئی آخر نہیں ہے۔انسا ن کو اس دینا اور خلا میں ہو نے والی تبدیلوں کا پتہ اسی  بلیک ہول کے ذریعے ہی پتہ چل رہا ہے۔ مگر آج سٹیفن ہاکنگ کی موت کے بعد 2018 میں بھی میں اور میرا معاشرہ 21سال پہلے لیڈی ڈیانا کے مرنے کے بعد والی بحث جیسے عمل سے گرر رہے ہیں۔ اس دور میں سواےَ پی ٹی وی کے کوئی اور چینل نہ تھا سوشل میڈیا کا تو دور دور تک کوئی نشان نہ تھا۔ خود پی ٹی وی بھی لیڈی ڈیانا کی آخری رسومات بی بی سی کے مرہون منت پیش کر رہا تھا اس وقت محلے کے کسی گھر کی چھت پر اگر ڈش انٹینا نظر آتا تو اس گھر کے باسیوں کو بوڑھے بزرگ شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اور آج سوشل میڈیا کی وجہ سے وقت کی بہت سی چالیں بدل گیں ہیں۔ شہر بدل گے نگر بدل گے گلی گھر تبدیل ہو گے رہنے کا طر یقہ وہ نہ رہا  رواج کھانے موسیقی سب کا چلن بدل گیا نہ بدلہ تو وہی سوچنے کا انداز کہ لیڈی ڈیانا سے سٹیفن ہاکنگ تک۔۔۔۔۔۔کہانی ایک سی ہی ہے۔ سوال اور بحث بھی ایک سی ہے۔ کہ مرنے والا  جنت میں جاے گا یا نہیں۔ کوئ شخص مرنے کے بعد جنت میں جاے گا یا دوزخ میں یہ حساب کتاب ہمارا کا م نہیں یہ کام اس پاک ہستی کا ہے جس کے قبضے میں کل جہاں ہے۔ جس نے یہ دینا تخلیق کی اس کی مرضی جسے چاہے بخش دے جسے چاہے نواز دے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ من الحیث القوم ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ہمارا اس معاشرے کی فلاح میں کتنا کردار ہے ۔ ہم سواےَ مغربی دینا کی ایجادات کو بے دردی سے استعمال کرنے کے علاوہ اور کیا کر  ریے ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر ازخود نوٹس لے  کر معاشرے کی بوسیدہ عمارت میں کاری ضربیں لگا رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY