旅行的意义 سفر کی اہمیت by Haseeb Ahmad

0
浙江旅行记录片by Muhammad Haseeb (محمد حسیب (سفرنامہ چےچیانگ
浙江旅行记录片by Muhammad Haseeb (محمد حسیب (سفرنامہ چےچیانگ

我最喜欢的事情就是旅行,我喜欢探索新的地方,并沉浸在世界各地的历史文化中,这些记忆都深深的存在我的脑海里。

我在巴基斯坦每次放假的时候,都会去我们国家各个美丽的地方旅游。当然,在中国我也有同样的经历。我一直在等待一次旅行的机会。突然有一天,我们的国际学生事务主任召集了一个会议,告诉了我们这个令人兴奋的好消息,那就是我们学院专门为巴基斯坦学生安排了一次从杭州-上海的四天和三夜旅程。我内心十分激动的同时又有点忐忑,因为在这之前我已经计划好了好几个城市之行,但是对我来说学校安排的这次的旅行更加有重要的意义。因此,我改变了我的计划,在星期四早上我就早早的准备好了行李。

 

旅行第一天,学校很早就安排了一辆巴士在学校门口等着我们38名巴基斯坦学生和老师,然后送我们去北京南站。上午八点钟准时出发开往第一站杭州,这是一个二等高铁,几乎两节车厢内都挤满了我们巴基斯坦的学生,我们唱着歌,跳着舞,用便携式扬声器播放着好听的背景音乐,就连为数不多的中国乘客也很享受这个气氛,每个人都带了一些自己精心准备的食物,我们把所有的美味食物集中放在一起,邀请大家一起分享,有说有笑的享受着这顿美味又让人难忘的到达杭州了,这真的是一个美丽的城市。来中国我第一次感觉到了空气原来可以这么清新,还伴随着毛毛细雨。一出车站当地的导游巴士里面就已经在火车站门口等我们了,本来我想用一些词语来形容杭州的美丽,但是我发现没有任何文字可以来形容。整个城市到处都是绿树,美丽的杭州在我心中留下了深刻的印象。我希望世界的每一个城市都可以像杭州一样美丽、一样生机勃勃,至少我希望北京会是这样的。,然后带去清真的餐厅为了午饭。虽然我们巴基斯坦的同学大都已经吃过中国菜但是有的学生不会用筷子,所以他们用筷子的时候有点儿麻烦。吃午饭以后我们到了西湖,这是一条最美丽的湖,好多个中国旅行团逛逛在湖边。他们带我们坐船游西湖,我静静的享受着眼前美丽的风景,这个美的有点不真实的湖。以前我一直以为北京颐和园的湖是中国最大的湖,但是西湖比颐和园的湖大很多,景色也十分美丽,在湖边拍照,跟中国人聊了天儿, 三个小时过了。参观完西湖之后,我们去了一家非常好吃的中国清真餐厅。所有的同学都非常喜欢这顿午餐,因为除了饭馆是清真,还有菜的味道,让我想到了家的味道,有点想家了。吃完饭之后到了酒店,我们的导游已经订好了房子,所以找房子没有麻烦的。一天下来我们都非常累,但是心里非常开心满足,晚上很舒服的睡了一觉。

 

第二天早上吃早餐之后我们准备了去哇哈哈,这是在中国一家最有名饮料公司,我们观看了水瓶的生产和包装,它是一个大的自动机器,用来制造塑料瓶和盖子,在用纯水装满它之后,用密封把它包装起来,使它冷却,再加热,检查其质量,然后放入六瓶的包装中。这是一个惊人的现象,我们对这种生产方式感到惊讶。公司的一位女导游告诉我们公司及其生产、历史和业务。她告诉我们这家公司开业的第一天,然后她给我们提供了他们公司的果汁,我们在那里合影。

   逛逛在哇哈哈哈之后我们到了一家清真餐厅为了午饭,这个餐厅的饭比那个餐厅的饭比较好吃多所以我们的老师跟导游说我们晚上再来为了晚饭。 接下来我们去了二十國集團領導人杭州峰會,这是 杭州国际博览中心位于杭州市萧山区钱江世。参观博览中心之后,我们去了下午去的清真餐厅。吃完饭之前我们参观了那个矢仓的周围的地方。晚饭后,我们回酒店了。

早餐后我们出发去上海。巴士旅行也非常有趣。导游为我们安排了豪华巴士。我们在公车上玩得很开心,比如跳舞,唱歌,玩扑克牌等等。我们去了南京路。南京路跟北京的王府井差不多。但是人比较多。在这里我们可以找到很多自己喜欢的品牌。我们到了外滩。外滩是上海市中心的一个海滨地区。该地区位于黄浦区东部黄浦江西岸。那边我们逛了三个小时,学校没安排午饭,所以午饭是自信的,有的学生吃了午饭有的学生只和了一杯咖啡,一般学生喜欢快餐所以他们去了附近的一家肯德基。我跟我的两个朋友们去了“啊米尔”一家“青海” 的清真的饭馆儿,那里猜的味道好吃。这家餐厅的环境干净也很安静。吃饭以后我们会来了在南京路,那边我们要4点钟集合然后去了一家清真餐厅为了晚饭,从南京路到吃饭的地方是大概25公里所以1个半小时内就到那里。吃完饭以后再来在外滩,沿江地区面临浦东陆家嘴现代摩天大楼。虽然我以前来过这里,但是我非常喜欢这个地方。导游说已经雇用了一艘游轮,方便我们可以近距离享受这美丽的风景。一个小时乘坐船之后去了酒店。

 

第四天早餐后,我们去了上海的第一个目的地是朱家角古镇,它有点像威尼斯,十分漂亮,特别是连接大湖上两个城镇的桥。朱家角之后,我们去了清真餐厅为了午饭,午饭后,到了上海虹桥火车站,大学预订了中国最快的火车服务“复兴号” 票,火车真的很豪华,从上海到北京只花了4个半小时,车当前速度是351 km/h。 最后我们回到了北京。

对我来说如果有人想看天气清新的绿色美景,我建议一定要去杭州。上海跟北京一样,也是一个熙熙攘攘的城市。但我觉得上海比北京节奏更快一些。人们似乎像机器人一样每天工作上班。但是上海经济和北京一样发达。如果要去上海旅游,我建议一定要晚上去参观这个城市,真的很美。

سیروسیاحت میرا فُرصت کا بہترین مشغلہ ہے،میں نئی جگہیں تلاش کرنا چاہتا ہوں۔ اس طرح سےماضی کی یادیں میرے دماغ میں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ پاکستان میں اکثرتعطیلات کےدوران خوبصورت اورقابلِ دید مُقامات کی سیرکرتا ہوں۔ جب سے چائینہ آیا ہوں میرا یہ شوق مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ چائنہ بھی پاکستان کی طرح خوبصورتی میں اور تفریحی مقامات میں خودکفیل ہے۔یہاں کی تاریخ بہت پُرانی ہے، میں چائنہ میں بھی کئی تفریحی اور صحت افزامقمات کی سیر کرچُکا ہوں۔ ایک روز ہماری جامعہ کےشعبۂ بین الاقوامی طلباء کا ایک اجلاس ہوا جس میں ہم پاکستانی طلباءکو خصوصی تربیتی کیمپ کے تحت چائنہ کے دو کاروباری اور خوبصورت شہروں میں دورہ ترتیب پایا۔ میں اس بات سے بےحد خوش ہوا کیونکہ میرا سفر کا شوق پُورا ہونےجارہا تھا۔ یوں ہم نے شنگھائی اور ہانگچو کا دورہ  کیا جہاں پر ہم نے چار دِن اور تین رات قیام کیا جس کا حال میں آپکو بیان کرنے جا رہا ہوں۔

مُقررہ دِن ہم اپنا سارا رختِ سفر بندھ کر صبح سویرے روانہ ہوئے،یہ جُمعرات کا دن تھا، جامعہ کی طرف سے ایک بس ہمارے لیے مُقرر تھی جس کے ذریعے ہم بیجنگ جنوبی ریلوےاسٹیشن پر روانہ ہوئے وہاں سے ہمیں بذریعہ تیز رفتار ریل گاڑی، ہانگچو کیلیے سفر کرنا تھا۔ یہ سفر تقریباً ساڑھے چار گھنٹے پر مُحیط تھا، دورانِ سفر تمام طلباء خوش گپیوں اور تفریح میں مگن رہے اس دوران ہر طالبعلم اپنے ساتھ لائی ہوئی کھانےپینے کی چیزوں سے بھی محظوظ ہورہے تھے۔ ریل گاڑی کے اطراف کا منظر نہایت خوبصورت تھا۔،کُچھ طلباء اس منظر سے بھی لُطف اندوز ہورہے تھے۔

آخر کار ہم ہانگچوریلوےاسٹیشن پہنچے، یہ ہمارا پہلا روز تھا۔ اسٹیشن کےباہر ایک مُقامی گائیڈ پہلے سے ہی موجود تھا اُس نےہمارےلیےایک بس کاانتظام کیا ہوا تھا جس کے ذریعے ہم ایک حلال ریستوران پہنچےاور دُوپہرکاکھانانوش کیا۔کھانا تو چینی ہی تھا مگر ذائقے میں باکمال اور بےمثال تھا۔کھاناکھانےکےبعدہم ہانگچوکی معروف جھیل مغربی جھیل پہنچے۔ جہاں پر ہم نے بذریعہ کشتی اُس جھیل کا اچھی طرح نظارا کیا، یہ جھیل انتہائی خوبصورت ہے اور اس کے اطراف سبزدرختوں کی بہتات اس جھیل کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ جھیل کانظارہ کرتے وقت گائیڈنےبتایا کہ گورنمنٹ نے ہانگچو میں ایک یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جِس کانام اس جھیل کے نام پر جامعہ مغربی جھیل رکھا جائیگا، جس میں بین الاقوامی طلباءوطالبات کیلیے وظیفہ کی بنیاد پرداخلہ دینے کا نظام متعارف ہوگا اور اس میں تقریباً تمام شعبوں کی تعلیم دی جائیگی۔ تقریباً تین گھنٹے اُس جھیل پر گُزارنے کے بعد ہم نے وہاں سے واپسی کی۔ راستے میں گائیڈ ہمیں ہانگچو اور اُس سے مُتعلق مشہورومعروف جگہوں اور چیزوں کابتاتارہااور ہم اِردگِردکےمنظرسےلُطف اندوز ہوتے رہے۔ تب اُس نے ہمیں بتایا کہ آنے والے وقتوں میں ہانگچو کاروباری مرکز بننےجارہا ہے جس کیلیے گورنمنٹ نے وہاں پر ترقیاتی کام شُروع کیے ہوئے ہیں، جن میں زمین دوز پبلک ٹرین بھی شامل ہے جو کہ تقریباً ایک ماہ قبل ہی عوام الناس کیلیے کھولی گئی تھی، اب اُس میں مزید توسیع کیجارہی تھی۔ یہ تقریباً مغرب کا بعد ہوگیا تھا اور ہم شام کےکھانے کیلیے ایک حلال ریستوران پہنچ چُکے تھے۔ یہاں کا کھانا بھی بہت لذیذ تھا، کھانے کے دوران ایک پاکستانی سے مُلاقات ہوئی،علیک سلیک کے بعد معلوم ہوا وہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں مُقیم تھے اور ہانگچو کی کسی کمپنی میں مُلازم تھے اور اُسی ریستوران میں کھانا کھانے آئے ہوئے تھے۔ کھانے سے فراغت کے بعد ہم ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے جہاں ہمارا رات کا قیام تھا، گائیڈ نے ہمارے گرُوپ کیلیے پہلے سے ہی ہوٹل میں کمرے بُک کروارکھےتھے، لہٰذا وہاں پہنچ کر ہمیں کوئی دِقّت نہ ہوئی اور ہم باآسانی اپنے اپنے کمروں میں پہنچ گئے۔ سارا دِن سفر اور گھومنے پھرنے کے باعث سبھی طلباء تھکے ہوئے تھے اس لیے جلد ہی سوگئے۔

اگلے روز صبح صبح سات بجے تمام طلباء ناشتے کی میز پر پہنچے، یہ جُمعے کا دِن تھا۔ اس دن ہمیں چائنہ کی معروف مشروبات کی کمپنی واہاہا کا دورہ کرنا تھا، وقت مقررہ پر سب طلباء جمع ہوئے اور ہم بذریعہ بس مذکورہ کمپنی پہنچے، جہاں پر ہمیں کمپنی کی ایک گائیڈ نے کمپنی کے مُختلف شعبوں کا دورہ کروایا جس میں ہم نے پلاسٹک کی بوتل کے بننے سے لیکر اُس میں جُوس کے بھرنے، بوتل کے پیک ہونے کے عملی مُظاہر کو دیکھا۔ اس کمپنی کا دورہ کرنے کے بعد ہم دوپہر کے کھانے کیلیے ایک حلال ریستوران پہنچے اور کھانے سے لُطف اندوز ہوئے، کھانا کھانے کے بعد ہمیں جی ٹوینٹی سمِٹ ہال جانا تھا، یہ وہ ہال تھا جِس میں دوسال قبل بیس مُمالک کی کانفرنس مُنعقد ہوئی تھی، اور چائینہ نے اُس کانفرنس کی میزبانی کی تھی، یہ بیس مُمالک وہ ہیں جن کے پاس پوری دُنیا کی معیشت کا اَسّی فیصد ہے۔ یہ ہال بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس ہال میں چار منزلیں تھیں اور ہر منزل پر کوئی نہ کوئی ہال تھا، یہاں ہم عصر تک رُکے اور واپس اُس ریستوران روانہ ہوئے جہاں ہم نے دُوپہر کا کھانا کھایا تھا، یہ ریستوران ایک بہت بڑے پلازے میں تھا جس میں مُختلف غیرمُلکی برانڈ کے کپڑے اور جُوتوں کے شوروم تھے۔ عصر سے مغرب تک کا دورانیہ ہم نے اُس پلازے میں ہی اِدھر اُدھر گھومنے میں گُزارا۔ مغرب کے بعدہمیں دوبارہ ریستوران میں رات کے کھانے کیلیے جمع ہونا تھا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد ہم نے ہوٹل واپسی کی، راستے میں ہانگچو شہر کا رات کا نظارا کیا، رات کا منظر دن کے منظر سے زیادہ خوبصورت تھا، ہر عمارت رنگ برنگی لائیٹوں اور قُمقُموں سے سجی ہوئی تھی اور نہایت بھلی لگ رہی تھی، ہوٹل پہنچ کر ہم تھکاوٹ کے باعث جلد ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

اگلے روز ہم پھر دوبارہ ناشتے کی میز پر جمع ہوئے، ناشتے کے بعد ہمیں بذریعہ بس شنگھائی روانہ ہونا تھا۔ اس دن صبح سے ہی بارش ہورہی تھی موسم بہت سُہانا تھا، گرمی کے موسم میں بھی سردی کا سماں تھا۔ سارا راستہ بارش رہی اور ہم اس حسین منظر سے لُطف اندوز ہوتے گئے۔ آدھے سفر کے بعد تھوڑی دیر سستانے کیلیے ایک سروس ایریا میں رُکے اور اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر سفر دوبارہ شُروع کیا۔ بارش کی وجہ سے تین گھنٹے تیس مِنٹ کا سفر، چار گھنٹے پندرہ مِنٹ میں طے کیا۔ شنگھائی پہنچ کر دُنیا کی تیسری سب سے بُلندعمارت کا نظارہ کیا۔ بادلوں کی وجہ سے اس عمارت کا سر مکمل طور پر چُھپا ہواتھا، یہ بھی ایک حسین نظارا تھا۔ اس عمارت کا نام شنگھائی ٹاور ہے، اور اس کی لمبائی چھے سو بتّیس میٹر جبکہ اس میں ایک سو اٹھارہ منزلیں ہیں۔ یہاں سےنزدیک ایک مشہور بازار ہے جس کا نام نانجنگ روڈ ہے اور یہ بازار جرمن نے بنایا تھا، اس بازار میں آکر ایسا لگتا ہے جیسے واقعی جرمنی میں آگئے ہوں کیونکہ انتہائی تنگ سڑک اور اطراف کی عمارات کا طرزِ تعمیر بالکل جرمنی کی تعمیر جیسا ہے۔ یہاں پر ہم نے یورپی باشندے کثیر تعداد میں دیکھے، جو کہ اپنے آباؤاجداد کا ورثہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ یہ روڈ اور اطراف کا بازار خوبصورتی کی مثال آپ تھا۔ یہاں پر ایک قریبی عامر نامی ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھایا،ریستوران مالک چائنہ کے صوبہ چھنگ ہائے کا مُسلمان تھا، کھانا بہت مزیدار او پُرتکلف تھا۔ کھانا کھانے کے بعد تمام طلباء وہاں سے مُلحقہ جگہ وائے تھان پر جمع ہوئے، یہ سمندر کا ایک آباد کنارہ تھا جس کے ایک جانب روڈ اور دُوسری جانب بڑی بڑی عمارتیں تھیں، جو کہ دِلفریب منظر پیش کررہی تھیں۔ ادھر گھومنے کے بعد ہم شام کے کھانے کیلیے روانہ ہوئے، یہ ریستوران شہر سے تھوڑا باہر تھا اس لیے ہمیں وہاں پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ راستے میں گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ شنگھائی شہر کی زمین کے اندر چار منزلیں ہیں، پہلی منزل میں زمین دوز پبلک ٹرین چلتی ہے، دوسری منزل سمندر کی ہے جس میں چھوٹے بحری جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں، تیسری منزل میں سڑک ہے جس پر گاڑیاں چلتی ہیں اور چوتھی منزل زمین کی سطح ہے جس پر عمارات تعمیر ہیں جِن میں شنگھائی کی عوام رہتی ہے، یہ بات ہمیں انتہائی حیرت انگیز معلوم ہوئی۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد ہم دُوبارہ وائے تھان پر آئے جہاں ہم نے بذریہ اسٹیمر اُس سمندر کا آبی نظارا کرنا تھا۔ یہ بھی ایک حیرت انگیز اور پُرلُطف تجربہ تھا۔ رات کو ہم شنگھائی میں پہلے سے بُک ہوٹل پہنچے جہاں پر ہمارا رات کا قیام تھا، یہ ہوٹل شہر سے کافی فاصلے پر تھا۔ ہوٹل پہنچ کر اپنے اپنے کمروں میں سوگئے۔

اگلی صبح کو ناشتے کی میز پر ناشتے کیلیے اکٹھے ہوئے۔ یہ ہمارے اس سفر کا آخری روز تھا،ناشتے کے بعد ہم شنگھائی کی ایک معروف ثقافتی ندّی چُوچِیا چِیاؤ چی چَن پہنچے، یہ واقعی ایک ثقافتی جگہ تھی اس ندّی میں چھوٹی چھوٹی کشتیاں چل رہی تھیں اور عوام کشتی رانی سے لُطف اندوز ہورہے تھے۔ ندّی کے اطراف میں چائینہ کی تاریخ اور ثقافت سے مُتعلق چیزوں کی دُکانیں تھیں۔ تھوڑا آگے بڑھے تو ایک دُکان میں شیشے کے چھوٹے چھوٹے مچھلی گھر تھے جِن میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تھیں اور باہر لکھا تھا مساج سنٹر، یہ دیکھ کر قدرے حیرت ہوئی تو مُقامی دُکاندار ہماری حیرت کو بھانپ گیا، اور خود ہی مُقامی زبان میں ہمیں بتایا کہ آپ اپنے پاؤں اِن مچھلیوں کے ڈبے میں رکھیں گے تو یہ مچھلیاں آپکے پاؤں کا مساج کریں گی۔ کافی طلباء نے وہاں پر مچھلی مساج کروایا۔ اس جگہ پر ہم نے تقریباً دوگھنٹے گُزارے اور دوپہر کے کھانے کیلیے مُقامی حلال ریستوران پہنچے، دُوپہر کے کھانے کے بعد ہمارا واپس بیجنگ کا سفر شُروع ہوا۔ ہماری واپسی شنگھائی ہونگ چھیاؤ ریلوے اسٹیشن سے بذریعہ تیز رفتار ٹرین سے تھی، یہ ٹرین کُچھ عر صہ قبل ہی شُروع ہوئی تھی۔ اس کی رفتا ر تین سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ چار گھنٹے سفر کے بعد ہم واپس بیجنگ پہنچ گئے۔ اس ساری سیر سے تمام طلباء بہت لُطف اندوز ہوئے، کیونکہ اس سفر میں بہت کُچھ دیکھنے اور سیکھنے کو مِلا۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ بھی چائنہ میں ہیں اور خوبصورت دلفریب مناظر سے لُطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو ضرور بالضرور ہانگچو کا دورہ کیجئے، یہ ایک صحت افزاء اور خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے، یہاں کی آب وہوا اور نظارے دِل کو فرحت اور آنکھوں کو تازگی بخشتے ہیں رُوح کو ایک مسحُور کُن سکُون دیتے ہیں۔ شنگھائی اور بیجنگ ایک جیسے ہیں لیکن شنگھائی کی زندگی بہت تیز ہے، یہ کاروباری شہر ہونے کی وجہ سے چہل پہل میں بیجنگ سے آگے ہے۔ اگر آپ شنگھائی اور ہانگچو کے دلفریب مناظر سے لُطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو رات کا نظارا کیجئے، کیونکہ دِن کی نِسبت رات کا منظر زیادہ خوبصورت ہے۔

LEAVE A REPLY