شان الحق حقی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔افتخار عارف

0

اسلام آباد(کلچرل رپوٹر)شان الحق حقی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔لسانیات اور اصطلاحات کے حوالے سے ان کا کام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہاراکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام معروف شاعر،ادیب اورمحقق شان الحق حقی کی یاد میں خصوصی تقریب میں افتخار عارف نے بطور صدر تقریب کیا۔تقریب اکادمی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ پروفیسر جلیل عالی مہمانِ خاص تھے۔شان الحق حقی کے صاحبزادے مہمان اعزاز تھے۔اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید، ڈاکٹر فرحت جبین ورک، ڈاکٹر فہمیدہ تبسم اور ڈاکٹر عبدالستا نے شان الحق حقی کی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ نظامت علی یاسر نے کی۔ افتخار عارف نے کہا کہ شان الحق حقی پاکستان کے گنتی کے ان ماہرین میں سے ایک تھے جنہیں لسانیات، لغات،ترجمہ اور اصطلاحات کے حوالے سے ایک سند کی سی حیثیت حاصل ہے۔اپنے طویل علمی و فنی تجربے کے دوران انھوں نے ان موضوعات پر بعض فکری انداز کی عام فہم نگارشات پیش کی تھیں جنھیں قارئین نے سراہا تھا۔ان کے مضامین خاص تحقیقی اسلوب اور بعض ہلکے پھلکے انداز کے حامل ہیں، کہیں ان کا نقطہ نظر عام نہج سے مختلف ہے اور کہیں وہ اپنا نیا نظریہ قائم کرتے ہیں۔شان الحق حقی کوایک زبان دان اور زبان کے نبض شناس کی حیثیت سے دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ انھیں اردو کی تاریخ عہد بہ عہد ارتقااور ذخیرہ الفاظ سے کتنی گہری واقفیت ہے۔الفاظ کی اصل سے لے کر معانی کے نازک سے نازک فرق تک ان کا علم اتنا وسیع اور تازہ ہے کہ اگر انھیں لفظوں کا مزاج داں کہاجائے تو غلط نہ ہوگا۔پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ شان الحق حقی ہشت پہلو شخصیت کے مالک تھے ان کی دلچسپیاں متویٰ ہیں شاعری، افسانگاری، مزاح نگاری،لغت نگاری، خا کہ نگاری،اور خطاطی شامل ہیں،مگر ان کی نمایا ں پہچان لغت نگاری ہی ہے، اُنہوں نے لغت نگاری میں کٹر پن کا رویہ نہیں اپنایا بلکہ اجتہاد سے کام لیا، یہی رُجحان اُن کی شاعری میں بھی نمایاں ہے، اشعار میں ہندی ، عربی اور فارسی کے مرکبات کو جگہ دی ۔ شان الحق حقی رواج سے بھر پور آگاہی رکھنے کے ساتھ ساتھ اجتہاد پسندی کے رویہ ساتھ لیکر چلتے تھے۔شایان حقی نے کہا کہ والد صاحب نے ساری زندگی علم و ادب کی خدمت کی، لغت نگاری اُن کا نمایا وصف تھا جسے اہل علم نے بہت سراہا۔ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان اپنے مشاہیر یاد کرتی رہتی ہے آج کی تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شان الحق حقی ہمارے ملک کے اُن مشاہیر میں سے ہیں جنہوں نے زبان و ادب کی بہت خدمت کی اور نمایاں مقام پایا۔ڈاکٹر فرحت جبین ورک نے کہا کہ شان الحق حقی ماہر لسانیات اور لفظ شناس ادیب تھے۔ ڈاکٹر فہمیدہ تبسم نے کہا کہ لغت نویسی کے ایسے گوناگوں تجربوں میں شاید ہی شان الحق حقی کا کوئی شریک ہو۔ڈاکٹر عبدالستار نے کہا کہ شان الحق حقی نے ادب اورلغت نویسی میں گران قدر خدمات سر انجام دیں۔

LEAVE A REPLY