قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی مناسبت سے خصوصی تقریب

0
قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی مناسبت سے خصوصی تقریب

اسلا م آباد( عمیر جاوید) قائد اعظم کی سوچ اور تعلیمات نے پاکستانی ثقافت روایت اور معاشرے کو صحیح میں مضبوط کیا ۔ان خیا لات کا اظہارجلیل عالی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی مناسبت سے خصوصی تقریب اورپاکستانی زبانوں کا مشاعرہ میں بطور صدر محفل کیا۔مشاعرے کی صدرات ریاض مجید نے کی۔،کلیدی مقالہ سید ضیاء الدین نعیم نے پیش کیا۔نظامت علی یاسر نے کی۔جلیل عالی نے کہا قائد اعظم کی انتھک کوششوں سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو خطے کے دیگر مسلمان ممالک بھی آزاد ہوئے۔ پاکستان کا معرض وجود میںآنا پوری مسلم اُمہ کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ قائداعظم رویتی ملائیت کے خلاف تھے وہ اُس اسلام کی بات کرتے تھے جو اپنے جوہر کے ساتھ انسانوں میں موجودرہے اور اسلامی حکومت کے لیے اثر دکھاتا رہے۔ سید ضیاء الدین نعیم نے پاکستان کے رواں سیاسی منظر نامے کے حوالے سے قائد اعظم کے زریں اُصول بیان کیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قائد اعظم کے دانشورانہ تصورات اور اُصولوں پر عمل کرکے ہی اُن کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں عظمت کی بلندیوں تک لے جاسکتے ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ قائد اعظم کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔ آج بھی ہمیں قائد جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم پاکستان کے لیے ایک نعمت سے کم نہ تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں کے بعدپیدا ہوتی ہیں۔ اُن کے تصورات اوراُصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم بڑی قوم بن سکتے ہیں۔پاکستانی زبانوں کے مشاعرے میں علی یاسر، اختر رضا سلیمی، حسن عباس رضا ، مصور عباس فرحانہ علی، اقبال حسین افکار، صدیق فنکار ، مبین یونس، شاہد عکسی، احمد حبیب، رُخسانہ نازی، حماد اظہر، انجم سلیمی، حبیب جمال ،عبدالرشیدمرزا، جاوید احمد ، اختر عثمان، انجم خلیق، علی اکبر عباس، شوکت کاظمی، ضیاء الدین نعیم، ڈاکٹر ریاض مجید، اور جلیل عالی نے قائد اعظم کے حضورہدیہ عقیدت پیش کیا۔

LEAVE A REPLY