فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں ’’نیشنل ازم اور پاکستانیت‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کا انعقادپاکستانی طالبات دفاع وطن کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں‘ پاکستانیت کانفرنس

0
فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں ’’نیشنل ازم اور پاکستانیت‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد

راولپنڈی:( سٹاف رپورٹر

) نوجوان نسل کو انتہا پسندی سے بچانے کی قومی سطح کی مہم کا آغاز ، جڑواں شہروں کی طالبات کیلئے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد نوجوان پاکستان کا ا ثاثہ بھی ہیں اور چیلنج بھی پاکستان کو آگے لے جانے میں نوجوان نسل کا کردار بہت اہم ہے، جنگ کے بادل چھاتے ہیں ہم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں کانفرنس میں طالبات کا عزم۔تفصلات کے مطابق دارلحکومت میں قائم ایک تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کالفلڈ اینڈ سیکیورٹی سٹیڈیز کے زیر اہتمام ’’نیشنل ازم اور پاکستانیت‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ کانفرنس فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں منعقد ہوئی جس سے بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط، وائس چانسلر فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ امین قادر ۔ چیئرمین پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹیڈیز میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک،پاک فوچ میں میجر جنرل کے رینک پر ترقی پانے والی دوسری خاتون افسر، میجر جنرل (ر) شاہدہ بادشاہ، پاکستان ائیر فورس کی خواتین فائٹر پائلٹس سکواڈرن لیڈر سائرہ امین، سکواڈرن لیڈر عنبرین گل ، معروف تجربہ کار عبداللہ ہ خان ، پاکستان کی معروف سائکلسٹ ثمر خان، نیشنل انٹرشپ پروگرام کے ریجنل ڈائریکٹر فیضان حسن اور دیگر نے خطاب کیا۔بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ بھارت کی گیڈر بھگیوں سے ہم ڈرنے والے نہیں قوم متحد ہو کر ایسی صورتحال کا مقابلہ کرے گی انہوں نے کہا کہ پاکستانیت کا مطلب پاکستان کے عوام میں مساوات ہونی چاہیے تھی مگر افسوس لہ ہم پاکستانیت کے جذبہ کو نہ سمجھ پاتے نہ آگے ترقی پاتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے جب تک ہمارے قومی مقاصد ذاتی مقاصے سے بڑھ کر نہیں ہونگے ہم پاکستانیت کی معراج کو نہیں پہنچ سکتے‘ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کالفلڈ اینڈ سیکیورٹی سٹیڈیز کے چیئرمین میجر جنرل (ر) سعد خٹک نے کہا کہ بھارتی جارھیت کے خلاف ہماری نوجوان نسل افواچ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھاری قربانیاں دے کر جنگ جیتی ہے ۔ بھارت کے خلاف جنگ ہوتی تو وہ بھی ہم ہی جیتیں گے۔مزید کہا کہ یہ جنگ ٹینکوں اور توپوں کی نہیں آئیڈیاز کی جنگ ہے پکس کا مقصد نوجوان نسل کو نظریاتی جنگ کیلئے تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں میں ایسیافراد بیٹھے ہیں جو ٹیلنٹ کو ملک سے بھگانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کو بھگا کر دم لیں گے اور اپنی نسل تیار کریں گے جو اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع کریں گے ‘ انہوں نے کہا کہ دشمن پوری کوشش کے باوجود ہمیں عراق ، شام ، یمن اور لیبا بنانے کی کوشش کرتارہا مگر ہم نے بحیثیت قوم اس کو شکست دی ہے‘ اگرآج دنیا میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو وار کورسز میں بڑھایا جاتا ہے تو یہ اس قوم کا جزبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو آزاد کشمیر میں مدخلت کی بھارتی قیمت چکانا ہوگی۔ یہ بھوٹان ‘ سری لنکا یا مالدیپ نہیں پاکستان ہے۔ میجر جنرل (ر) شاہدہ بادشاہ نے کہا کہ زندگی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے نوجوانوں کو اپنی بہترین کوشش کرنی چاہیے ۔ مواقع انہی کو ملتے ہیں جو کوشش کر تے ہیں انہوں نے طالبات سے کہا کی کپڑوں اور جوتوں کے برانڈ آپ کیلئے اہم نہیں ہونے چاہیے بلکہ آپ کیلئے بلند خیالات اہم ہونے چاہیے جو آپ کے ملک وقوم کہ زندگی میں کوئی تبدیلی لا سکیں ۔ مزید کہا کہ ہماری زندگی میں قومی مقاصد ذاتی مفاد سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔معروف تجربہ کار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹیڈیز کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے طالبات سے کہا کہ اپنی زندگی کے مقاصد اور نصب العین کا تعین کرلیں تاکہ آپ منزل پر پہنچ سکیں ورنہ وئی بڑا مقام حال نہیں کر سکیں گے انہوں نے کہا کہ زندگی کے مقاص�آافاتی ہونے چاہیے ذاتی اور سطح نہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو طلباء طالبات زندگی کے مقصد کا یقین کر لیتے ہیں وہ بہت آگے نکل جاتے ہیں‘اے پی ایس پشاور حملے میں بچ جانے والے طالب علم عاکف عظیم نے طالبات کو 16 دسمبر 2014 کے حملے کا آنکھوں دیکھا احوال سنایا جس پر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی انہوں نے کہا کہ میں ملک کیلئے اپنی جان قربان کرنے پر تیار ہوں اور یہ جذبہ ہر نوجوان میں موجود ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ اکبرکا نعرہ لگا کر شہید کرنے والے دراصل جھوٹ بول رہے تھے وہ اللہ تعالی اور اسلام پر یقین نہیں رکھتے۔ پاکستان ائیر فورس کی پہلی اعزازی شمشیر حاصل کرنے والی خاتون آفسر نے کہا ہے کہ پاکستان ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے ہم خواتین ہونے کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مردورں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو بیک وقت کئی طرح کے کام کرنے ہوتے ہیں ہم ائیر فورس میں ہونے کے باجود ایک بیوی، ماں اور بہو کا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں‘ خاتون فائٹر پائلٹ عنبرین گل نے کہا ہے کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ امین قادر نے کہا کہ پاکستانیت کو فروغ دینے میں فاطمہ یونیورسٹی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں نسلی ، مذہبی اور فرقہ وارنہ پس منظر سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا۔اور خواتین کو ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر کے اپنے ملک کی روشن مثال پیش کرنی ہوگی

LEAVE A REPLY