Ayesha Alam byپاک افغان تعلقات اور خطے کی کشیدہ صورتحال افغانستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

0
Attitude of China and USA towards International Community by Ayesha Alam
Attitude of China and USA towards International Community by Ayesha Alam

اس وقت پاکستان کے اندر کچھ سازشی عناصر ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف سر گرم عمل ہے۔ ان سازشی عناصر کو کہاں سے طاقت مل رہی ہے۔ یہ سازش کہاں پر پاکستان کے خلاف بنائی گئی ہے اور اس کے پیچھے اصل مقصد کیا ہیں۔ ان تمام  محرکات کا جائزہ لیں تو اس کے پیچھے افغانستان کے اندر متحرک خوفیہ قوتوں کا کردار نظر آتا ہے ۔ یہ بات قیام پاکستان سے ہی واضح ہے کہ مملکت  پاکستان میں انتشار پھیلانے میں اندرونی اور بیرونی قوتیں عرصہ دراز سے اپنی ناکام مقاصد میں بر سر پیکار ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کی قوتوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ۔ وطن عزیز کا وجود ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کو کٹکتا رہا ہے۔ بد قسمتی سے افغانستان سے ہمارے تعلقات پہلے دن سے اچھے نہیں ہے افغانستان ہمارا پڑوسی اسلامی ملک ہے  جس کے ساتھ پاکستان نہ صرف مذہبی بلکہ تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بھی منسلک ہے لیکن ان تمام تر رشتوں کے باوجود پاکستان بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ابتداء خوش گوار ماحول میں نہ ہو سکی  اس کی وجہ افغانستان کا رویہ کبھی اچھا نہیں رہا پاکستان کیلئے۔ افغانستان تمام اسلامی ملک میں وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مخالفت کی۔ یہ پہلا اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات شروع سے نا خوشگوار ہے ۔ ڈیورڈلائن کو ان تمام تر نا خوشگوار معاملات کی وجہ سے سمجھا جاتا ہے۔ 1993ء میں امیر عبدالرحمن والی افغانستان او رحکومت برطانیہ کے درمیان ڈیورڈ لائن کا سمجھوتہ طے پایا۔ جس کی روح سے سرحدی لائن قائم کر دی گئی جسے آج  ڈیورڈ لائن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا اُس وقت یہی دونوں ملکوں کے درمیان سرحد تھی  جو بین الاقوامی سرحد تسلیم کی جاتی ہے لیکن اگر افغانستان کے موقف کو دیکھیں ڈیورڈ لائن کو لیکر تو یہ مطالبہ حقیقت کے منافی نظر اآتا ہے۔ 1945 ء 1939- دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے لیکر قیام پاکستان تک افغان حکومت اس تمام تر معاملات پر خاموش رہی۔ لیکن 14 اگست 1947 ء سے ہی افغانستان کے سرکار نے پختونسستان کے  مسئلے کو شدید اُچالا۔ 1949 ء میں افغانستان نے سرکاری طور پر ڈیورڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی رکنیت کی مخالفت کی۔ حکومت پاکستان کا رویہ برادر اسلامی ملک کیلئے ہمیشہ مختلف رہا۔ 1959 سے 1962 تک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہایت کشیدہ رہی اس دوران سفارتی سطح پر تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے۔ 1963 میں شاہ آف ایران کی کاوشوں سے تعلقات میں کچھ بہتری  آئی اور سفارتی تعلقات کو بحال کیا گیا۔ حکومت پاکستان کا موقف واضح تھا اگر نسلی اور لاثانی بنیادوں پر تقسیم کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے تو پھر کوئی ملک صحیح و سالم نہیں رہ سکے گا۔ یہاں تک کہ انہیں بنیادوں پر افغانستان کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ پشتو، دری، فارسی ، تاجک ، ہزارہ اور ازبک پر مشتمل کئی ریاستیں وجود میں آئے گی۔ لیکن افغانستان کی حکومت ہمیشہ بھارت کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کے خلاف ذہر اگلتی رہی ہے۔ 1949 میں روس کی فوجی مخالفت کے نتیجے میں 50 لاکھ افغان باشندوں نے ایران اور پاکستان کی طرف ہجرت کی ان میں بڑی تعداد ، بچےبوڑھے، عورتیں اور مرد شامل تھے۔ان مہاجرین میں دونوں اسلامی ممالک نے پناہ دی۔ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو پناہ دینا پاکستان کی اپنی معیشت پر ایک بہت بڑا بوج تھا۔ پاکستان نے معاشی سختی برداشت کی لیکن اپنے افغان بہن بھائیوں کو بے یار و مددگار ہر گز نہیں چھوڑا۔ 1996 میں جب کابل میں مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی تو کچھ تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آئے لیکن یہ بہتری بھی عارضی ثابت ہوئی 2001ء میں جب امریکہ نے نام نہاد دہشتگردی کی آڑ میں افغانستان پر حملہ کیا تو ایک بار پھر لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں آج بھی لاکھوں کی تعداد میں یہ مہاجرین موجود ہیں اور پاکستان ان مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ پاکستان نے دل کھول کر اپنی افغان بھائیوں کی مدد کی لیکن افسوس دوسری طرف سے رویہ ہمیشہ مختلف رہا۔ بھارت نواز حکمرانوں نے پاکستان کی تمام تر قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر کے ہمیشہ پاکستان مخالف قوتوں کا ساتھ دیا۔ ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ بردار اسلامی ملک ہونے کے ناطے دونوں ملکوں کو باہمی اتفاق اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا لیکن افغانستان کی طرف سے ہمشہ الزام تعاشی اور نفرت کر بڑھا وا دیا گیا۔ پاکستان کے خلاف ہر اس قوت کا ساتھ دیا جس کو پسکاتان کو وجود گوارہ نہیں۔ افغانستان کے اندر بھارت کا سفارت خانہ جو کھیل کھیل رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بھارت افغانستان کے راستے جس طرح پاکستان مخالف قوتوں کو استعمال کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہیں۔ را افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں اس کے ثبوت بین الاقوامی برادری کے سامنے حکومت پاکستان کئی بار پیش کر چکی ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے اور حالیہ نام نہاد افغانستان ، امریکہ اور بھارت کی سپانسر کر دہ پشتون تحافظ مومنٹ کو جس طرح پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں افغانستان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نواز حکمرانوں کو پاکستان کی طرف سےکی جانے والی کاوشوں کا ذرا بھی احساس نہیں حالانکہ جغرافیائی حالات پر نظر ڈالے تو افغانستان ایشیاء کا خشکی سے گرا ہوا ایک ملک ہے۔ یہ سمندر کے بنا خشکی سے گرا ہوا ہے اورسمندر تک جانے کیلئے اس ملک کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ اس کی بر آمدات ارسال کرنے کیلئے کراچی کے راستے کرتا ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا رواداری اور فراخ دلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان تمام تر احسانات کے باوجود افغانی حکومت نے اپنا ذہریلی پراپیگنڈا جاری رکھا اور آج بھی ہمارے معاملات میں مداخلت جاری ہے۔ منظور پشتین کی نام نہاد تنظیم کو پوری طرح افغان حکومت اور میڈیا کی حمایت حاصل ہے ۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں افغانستان کا جھنڈا بھی دکھائی دیتا ہے۔ آئے روز افغان باڈر پر صورت حال کشیدہ رہتی ہے پاک آرمی کے نوجوانوں پر فائرنگ روز کا معمول  ہے۔ دہشت گردی کی جنت مفلس ملک جس طرح پاکستان کے احسانات کے بدلے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ اس کا حساب چکانے کا وقت آچکا ہے حکومت پاکستان کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی کیونکہ یہ وقت اور حالات کا تقاضہ ہے اور قومی سلامتی اور ملکی دفاع کی بات بھی ہے۔ 1979 سے 2019 تک ہم ماضی کی طرف دیکھیں اور موجودہ صورت حال کا جائزہ لے تو واضح ہوتا ہے کہ لاکھوں مہاجرین کو پناہ دیکر پاکستان نے اپنا معاشی قتل عام کی اپنی قبائلی علاقے جو امن کا گہوارہ سمجھے جاتے تھے اب میدان جنگ بن چکے ہیں۔ پشتون قومیت کا کارڈ کھیل کر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ جب کہ پاکستانی پشتون محب وطن ہیں اور ملک کے دفاع کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے ۔ جب جب ملک پر مشکل وقت آیا ہمارے ان محب وطن پشتون بھائیوں نے دل کھول کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ پاکستانی پشتون خود دار ، وفادار اور اپنے ملک سے پیار کرنے والے ہیں ۔ چند مٹھی بھر عناصر کسی طرح سے بھی پشتون قوم کی ترجمانی نہیں کرتے ۔ یہ افغانستان کے ہاتھوں میں جو کٹ پتلی کی طرح کام کرتے ہیں ان کو پشتون قوم بری طرح سے رد کر چکے ہیں۔ افغانستان نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ 14 اگست پر پاکستان کو پرچم کو جلانے ، بانی پاکستان کو تصویروں کی بے حرمتی کرنا افغانیوں کو معمول ہیں اور حالیہ پی ٹی ایم کو جس طرح افغانستان کی حمایت حاصل ہے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ افغانستان پاکستان کے بارے میں کن نظریات کو فوقیت دے رہا ہے ۔ اب تعلقات از سر نو دیکھنا ہوگا پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اور یہاں رہنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کو واپس ان کے ملک بھیجنے میں حکومت پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایس اسی پی طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کرنا اور لاش کا افغانستان سے ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹیم ایم کے تانے بانے کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور کہاں ملتے ہیں۔ علی وزیر اور محسن داوڑ جیسی کٹ پتلیوں کی ڈور کہاں سے ہلتی رہی ہے۔ ان سب باتوں کا جواب مل چکا ہے۔ اب ملک کی سلامتی کی ہے تو ہمیں عملی جامع اقدامات کرنے ہونگے۔

LEAVE A REPLY