پاکستان کی، ترقی، بہبودی اور استحکام محمود علی کی زندگی کا مشن تھا,مقررین

0
پاکستان کی، ترقی، بہبودی اور استحکام محمود علی کی زندگی کا مشن تھا,مقررین
پاکستان کی، ترقی، بہبودی اور استحکام محمود علی کی زندگی کا مشن تھا,مقررین

ٰٓاسلام ا ٓباد (نامہ نگار) پاکستان کی، ترقی، بہبودی اور استحکام محمود علی کی زندگی کا مشن تھاوہ پاکستان سے وفا کی رسی میں بندھے تھے، نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لئے ہمیشہ آواز بلند کر تے رہے اور اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اپنا وقت اور سرمایہ ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے خرچ کیا۔جمہوری پاکستان سے ان کی محبت زندگی کی آخری سانس تک قائم رہی تحریک پاکستان اور تکمیل پاکستان کیلئے ساری عمر قربانیاں دیتے رہے۔تکمیل پاکستان کی جدوجہد محمود علی کی زندگی کا مقصد تھا،ہمیں ملک کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لئے ان کے اصولوں اور نظریات کو اپنانا ہوگا۔ تحریک پاکستان کے کارکنوں کی یاد سے دل آباد ہو جاتا ہے۔ محمود علی کو یاد کرنے کا مقصد ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے۔محمود علی کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ڈاک ٹکٹ بھی جاری کر رہی ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار مقررین نے تحریک پاکستان کے عظیم رہنماء محمود علی کی13 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا اہتمام نظرئیہ پاکستان فورم اسلام آباد راولپنڈی نے کیا تھا۔ ا س موقع پر مقررین نے نظریہ پاکستان کے محافظ معروف صحافی روزنامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔محمود علی کی طرح مجید نظامی نے صحافت میں نظریہ پاکستان کی شمع کو روش رکھا۔لوگ نظریہ پاکستان کو سمجھنے کے لئے نوائے وقت کا مطالعہ کرتے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ہونے والی خصوصی نشست کی صدارت قائد اعظم کے رفیق کار تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن‘ سابق وفاقی وزیر سرتاج عزیز نے کی۔ تقریب سے نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے صدر سینٹر لیفٹیننٹ جنر ل (ر) ملک عبدالقیوم، اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری ظفر بختاوری، لاہور سے آئے ہوئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید، نظریہئ پاکستان فورم راولپنڈی کے صدر پروفیسر محمد نعیم قاسم‘ نظریہئ پاکستان فورم چکوال کے صدر راجہ مجاہد افسر،ڈاکٹر صلاح الدین مینگل،معروف صحافی خوشنود علی خان نے بھی خطاب کیا۔ سرتاج عزیز نے اپنے خطاب میں محمود علی کی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے محبت ان کے خون میں رچی بسی تھی جس کے لئے انہوں نے ہر طرح کی قربانی دی۔ان کا جذبہ اور سوچ ان کی طرح بڑی عظیم تھی۔وہ اس بارے فکر مند رہتے تھے کہ مشرقی پاکستان میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ وہ بنگالی کو بھی اردو کی طرح قومی زبان قراردلوانا چاہتے تھے۔ان کی جمہوریت پسندی شروع سے آخر تک قائم رہی۔ 1971 ء کے سانحہ نے انہیں ساری زندگی رنجیدہ رکھا۔میری ان سے پہلی ملاقات 1984 ء میں ہوئی اور پھر یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ برصغیر کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ ملک کی آزاد خارجہ پالیسی، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات اور کسانوں کے حقوق اور جمہوریت کے لئے ہمیشہ آواز اٹھاتے رہے۔ہمیں ملک کی ترقی بہتری اور استحکام کے لئے ان کے اصولوں اور نظریات کو اپنانا ہوگا۔ نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے صدر سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر)ملک عبدالقیوم نے کہا کہ محمود علی سادہ مزاج اور انسانیت سے محبت کرنے والے نرم خو انسان تھے۔ تحریک پاکستان اور تکمیل پاکستان کے لئے ان کی قربانیاں لازوال ہیں۔انہوں نے کہا مجدد الف ثانی، سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور قائد اعظم نے مسلمانان برصغیر کے لئے قربانیاں دیں بعد میں محمود علی نے انہیں فالو کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے حصول کا مقصد محض زمین کا حصول نہ تھا بلکہ اسلامی نظریات کے مطابق زندگی گزارنا تھا۔ انہوں نے کہا پاکستانی قوم بڑی باصلاحیت اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا مسئلہ لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ جہاں بھی لیڈر شپ ٹھیک ہوئی اس قوم نے ڈیلیور کیا ہے۔ سیاست میں عدم برداشت بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ ملکی ترقی کے لئے ہمیں معاشی بحران پر قابو پانا ہوگا، خارجہ پالیسی کو درست کرنا ہوگا۔ ہمارے دوستوں میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو دنیا میں کوئی ہمارا ساتھ دینے والا نہ ہوگا۔ پلوامہ اور بالاکوٹ پر حملوں میں ہماری ناقص خارجہ پالیسی کے باعث ہمیں بیک فٹ پر جانا پڑا۔جب اقوام متحدہ میں جانے کی ضرورت تھی تو ہم مودی کو فون کرتے رہے۔نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا محمود علی کو یاد کرنے کا مقصد ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے۔ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ نظریہ پاکستان کے لئے آواز بلند کرتے رہے اور ہر جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی یہ بے باکی ہمیں آج بھی حوصلہ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ پائیہ کے مصنف بھی تھے جنہوں نے نظریہ پاکستان کے حوالے سے کئی کتب بھی تصنیف کیں۔انہو ں نے کہا محمود علی کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ڈاک ٹکٹ بھی جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا مودی حکومت کے ظالمانہ اقدامات سے بھارت کے اندر ایک اور پاکستان بننے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت نے بنگلہ دیش کو بنا کر ایک اور پاکستان بنایا ہے۔ معروف صحافی خوشنود علی خان نے کہا ہمیں ان لوگوں کو عزت دینی ہوگی جو نظریہ پاکستان کے محافظ ہیں۔انہوں نے کہا مجید نظامی نظریہ پاکستان سے وفا کی رسی میں بندھے تھے۔پرنٹ میڈیا کا گلہ گھونٹا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا بے لگام ہو چکا ہے۔ نظریہ پاکستان فورم چکوال کے صدر راجہ مجاہد افسر نے کہا محمود علی کی سوچ ایک ایٹم بم کی طرح تھی وہ جب دنیا سے جارہے تھے تو پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی دعا ان کے لبوں پر تھی۔ وہ اس بات پر ہمیشہ رنجیدہ رہتے کہ پاکستان امریکہ کا دم چھلا بنتا جارہا ہے۔ نظریہ پاکستان فورم بلوچستان کے صدر ڈاکٹر صلاح الدین مینگل نے کہا کہ تحریک پاکستان کے کارکنوں کی یاد سے دل آباد ہو جاتا ہے۔ آج مہنگائی نے عوا کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ہماری غلطیوں کے باعث ملک مسائل کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ محمود علی نے ہمیشہ اپنا سرمایہ اور وقت پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے خرچ کیا۔ نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے صدر محمد عارف شیخ نے کہا کہ محمود علی نے تحریک پاکستان کے بعد تحریک تکمیل پاکستان کی بنیاد رکھی اور ساری عمر اس کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے کہا محمود علی نے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر بنگلہ دیش سے پاکستان ہجرت کی اور نظریہ پاکستان کو نئی توانائی بخشی۔انہوں نے کہا محمود علی کی طرح مجید نظامی نے صحافت میں نظریہ پاکستان کی شمع کو روش رکھا۔لوگ نظریہ پاکستان کو سمجھنے کے لئے نوائے وقت کا مطالعہ کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY