ہمالیہ کے سایے تلے پاک چین دوستی کا سفر

0
ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر
ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر

 

(اسلام آباد کلچرل رپوٹر)

یہ کتاب پاک چین تعلقات پر لکھی ہوئی مکمل جامع کتاب ہے۔ یہ کتاب  ہزارہ یونیورسٹی پاکستان سٹڈی ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر عائشہ عالم نے لکھی ہے۔ مصنفہ اس سے پہلے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے انگلش ڈیپارٹمنٹ اور ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پاکستان سٹڈی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھا چکی ہیں۔ ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر سے پہلے اُن کی یہ کتاب انگریزی زبان میں شائع ہو چکی ہے۔ اپریل2018 میں

Under the Shadow of Himalaya Pak-China Relation Opportunity and Challenges

کی تقریب رونمائی اسلام آباد پارلیمنٹرئین انسٹیٹیوٹ میں ہوئی۔ جس میں چین کے سفیر یاو جنگ اور سنیٹر مشاہد حسین سید چیرمین پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ اور اُس وقت کے وزیر مذہبی اُمور سردار محمد یوسف نے شرکت کی۔ستمبر2018 میں چین  کی حکمرانی جماعت نے مصنفہ کو ریاستی مہمان کے طور پر مدعو کیا اور اس دورے میں مصنفہ کو شنگھائی ،وھان اور بیجنگ کا دورہ کروایا گیا جبکہ ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر کتاب 1 اکتوبر 2019 کو چین کے قومی دن کے موقع پر شائع ہوئی۔ پاکستان اور چین کے تعلقات پر لکھی گئی یہ کتاب بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ 2001 کے بعد لکھی گئی تمام کتابوں کا موضوع امریکہ افغان جنگ اور طالبان کا کردار اور دہشت گردی کے واقعات کو زیر موضوع بنایا گیا لیکن  یہ واحد کتاب ہے جس میں پاک چین تعلقات کو زیر موضوع بنایا گیا۔ اس کتاب میں دونوں ملکوں کی دوستی کو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا۔ اس کتاب میں1949 سے لیکر موجودہ حالات کو بیان کیا گیا ہے۔ 2015 میں جب چین نے شاندار سی پیک منصوبے کا آغاز کیا تب بھارتی اور امریکی میڈیا نے اس منصوبے کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا کہ یہ منصوبہ آنے والے دنوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت ہوگا۔ ایک ایسے نازک وقت میں جب تمام پاکستانی سکالرز اور دانشور اس منصوبے کے بارے میں مختلف طرح کے تجزیات کر رہے تھے تب عائشہ عالم نے یہ کتاب لکھ کر بھارتی اور امریکی پروپیگنڈا کا جواب اس کتاب کی شکل میں دیا اور ماضی کے تمام واقعات کو تفصیل کے ساتھ بیان کر کے عوام کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ یہ کتاب سی پیک جیسے شاندار منصوبے کی تفصیلات کو بیان کرتی ہے۔ اس اردو کتاب میں نئےباب کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں بین الاقوامی برادری کے بارے میں چین اور امریکہ کے رویے کو بیان کیا گیا ہے۔ ون بیلٹ ، ون روڈاور چین کے وژن کو اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ علاقائی خوشحالی کیلئے اقتصادی راہداری کا منصوبہ سی پیک کو خاص طور پر اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں گوادر پورٹ کو لیکر انڈیا کے تجارتی خدشات اور چاہ بہار تجارتی مرکز کی اہمیت کو بیان کیا گیا۔ یہ کتاب دونوں ملکوں کی دوستی کے 70 سالوں کو بیان کرتی ہے اس کتاب کا پہلا باب دونوں ملکوں کے ابتدائی تعلقات کے بارے میں تفصیل پر مبنی ہے۔ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات سے لیکر 1950 میں چین بھارت تعلقات اور پاکستان امریکہ تعلقات کی تفصیلات موجود ہے۔ 1962 کی چین بھارت سرحدی تنازع کے بعد دونوں ملکوں کی قربت کے بارے میں تمام معلومات درج ہے۔ 1949 سے 1971 تک چین اقوام متحدہ کا ممبر نہیں تھا اُس وقت پاکستان نے چین کی مدد کی جس کو چینی عوام آج تک نہیں بھولے۔سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں سے کس طرح دونوں ملکوں کے درمیان اس مضبوط رشتے کی بنیاد پڑھی۔ مصنفہ نے ماضی کے تمام واقعات کو بہت ہی عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ دفاعی ، تجارتی ، سرحدی اور ہوائی مسافرت کے معاہدے کی تفصیلات شامل ہے۔پاک بھارت جنگوں میں چینی کردار دفاعی معاملات میں چین کی مدد اور شاہراہ کی تعمیر اور معاشی تعاون پر دونو ں ملکوں کے درمیان ہونے والی تمام اہم معاہدات کی معلومات اس کتاب کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔

باب دو م۔ عسکری تعاون کی معلومات پر مبنی ہے۔ باب سوم جس میں دونوں ملکوں کو درپیش چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس باب میں توانائی کے منصوبے شامل ہیں اور چین کی بھاری سرمایہ کاری معاشی تعمیر و ترقی کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔ خطے میں دونو ں ملکوں کی بھاری سرمایہ کاری سے امریکہ اور بھارت کی پریشانی کو بھی اس کتاب میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ جنوبی ایشاء میں بھارتی معاشی مقاصد کو بیان کیا گیا ہےاور چین کے بڑھتے ہوئے اثرات سے امریکہ کے خدشات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ باب چہارم میں پاکستان اور چین کی مشترکہ تعاون کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بارے میں دونوں ملکوں کے مابین باہمی ہم آہنگی کو بیان کیا گیا ہے۔ عسکری امداد اور معاشی تعاون کے اثرات کی تفصیلات موجود ہیں۔ چینی اور اردو زبان کے کردار کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی تعاون کی تمام تفصیلات اس کتاب میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشاء میں چین کے امن کے پالیسی کو بیان کیا گیا ہے ۔2005 اور 2007 کے پاکستان اور چین کے اندر وانے والے زلزلے کے بعد دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کیلئے جو پیار دیکھا گیا اُس کی مثال بین الاقوامی تعلقات میں کم ہی ملتی ہے۔ کس طرح مشکل وقت میں دونوں ملک ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہ ساری معلومات اس کتاب میں درج ہے یہ کتاب اس وقت چین کی پچاس بڑی یونیورسٹیز کی لائبریری میں موجود ہے۔ اسلام آباد پاکستان میں چینی سفارت خانے نے اس کتاب کو اردو اور انگریزی میں بڑی مہارت کے ساتھ لکھنے پر عائشہ عالم کو چین کی نمبر ون یونیورسٹی پیکینگ میں مدعو کیا ۔ اس موقع پر عائشہ عالم نے پاک چین تعلقات اور سی پیک کے اثرات پر لیچکرز دیئے۔ شعبہ مطالعہ پاکستان پیکینگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور طلباء نے پاک چین تعلقات کے تناظر میں لکھی گئی اس کتاب کو زیادہ سراہا۔ چین کے سفیر یاو جنگ اور سنیٹر مشاہد حسین سید نے پاک چین تعلقات پر ایک عمدہ کتاب لکھنے پر مصنفہ  کو تعریفی سرٹیفیکیٹ لکھے۔ یہ کتاب  موجودہ حالات میں اس عظیم دوستی کو مضبوط کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی کیونکہ چین اور پاکستان کی دوستی خلوص، سچائی، وفاداری اور باہمی تعاون پر مبنی ہے۔ ہر مشکل وقت میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا یہ کتاب چین اور پاکستان کی دوستی کو 70 سالوں کو بیان کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو دونوں ملکوں میں بے حد سراہا گیا

ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر
ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر

 

ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر
ھمالیہ کے سائے تلے پاک چین دوستی کا سفر

LEAVE A REPLY