اظہاراکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام “پنجابی زبان میں عالمی ادب کے تراجم” کے موضوع پرآن لائن سیمینارمیں مہمان خصوصی شفقت محمود، وفاقی وزیرتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت اور چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک

0
اظہاراکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام
اظہاراکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام "پنجابی زبان میں عالمی ادب کے تراجم" کے موضوع پرآن لائن سیمینارمیں مہمان خصوصی شفقت محمود، وفاقی وزیرتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت اور چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک

اسلام آباد (سٹاف رپوٹر) تاریخ کے ہر دور میں پاکستانی زبانوں میں ادیبوں کی تخلیقی فعالیت نے خوب رنگ جمایا ہے اس کے ساتھ غیرملکی ادب کے تراجم نے بھی پاکستانی ادب کو ثروت مند کیا ہے۔ پنجابی زبان میں تراجم کی روایت موجود ہے جس میں بڑے تخلیق کاروں نے بھی کام کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہاراکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام “پنجابی زبان میں عالمی ادب کے تراجم” کے موضوع پرآن لائن سیمینارمیں شفقت محمود، وفاقی وزیرتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت نے بطورمہمان خصوصی کیا۔

پروین ملک نے ویڈیو لنک کے ذریعہ صدارت خطاب میں کہا کہ ضروری ہے کہ تمام ادارے ترجمے کے حوالے سے خصوصی اقدامات کریں تاکہ ہم جان سکیں کہ دنیا بھر میں کن موضوعات پر بات ہورہی ہے۔

چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہا ایک زبان سے دوسری زبان میں تخلیقی ادب کا ترجمہ دراصل دوسری تہذیب سے قریبی ربط کا ایک موثر وسیلہ بن چکا ہے۔

جمیل احمد پال، حمید رازی، زاہد حسن، خالد محمود، شبیر شاہد، ٹیپو سلطان مخدوم، امجد سلیم منہاس اورفیصل اقبال اعوان نے وڈیو لنک کے ذریعے مضامین پیش کیے۔ نظامت محمد عاصم بٹ نے کی۔

 شفقت محمود، وفاقی وزیر نے کہا کہ ترجمہ کسی بھی زبان کے گلستان ادب کے لیے تازہ ہوا اور جسم کے لیے خون تازہ کا کام کرتا ہے۔ ترجمہ ایک کھڑکی ہے جو دوسری ثقافتوں کی طرف سے نئی ہوائیں، خوشبوئیں اپنے ساتھ لاتا ہے اور دوسری زبان کومعطرکرتا ہے اورپڑھنے لکھنے والوں کے ذہن و ذوق کو جلا بھی بخشتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترجمہ دنیا بھر میں فکری اورعلمی پیش رفت اورادبی منظرنامے سےآگاہی دیتا ہے۔ اس سے زندگی کی تفہیم بڑھتی اوربرتنے کا سلیقہ ترقی کرتا ہے۔ پنجابی کا ادبی سرمایہ بہت فراواں اور زرخیز ہے جس کا آغاز بارھویں صدی عیسوی میں بابا فرید کی شاعری سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج جو پنجابی ادب لکھا جا رہا ہے، وہ توانا، متنوع اور پراثر ہے اور اس کا شمار عالمی ادبی منظرنامے میں صف اول کے ادب میں ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ادب کے ارتقا کی ہر منزل پر ترجموں اور مترجموں کا شمار ہراول دستے میں ہوتا ہے۔ ترجمہ ان انتہائی موثر وسیلوں میں سے ایک ہے جن سے تازہ افکار کسی زبان میں شامل ہوتے ہیں۔ تراجم کا عمل ایک ارتقائی عمل ہے جس سے مختلف تہذیب، معاشرت اور ثقافت کسی دوسری زبان میں منتقل ہوتی ہے، اس کے ساتھ علم و فنون اور اہل علم نئے سرچشموں سے سیراب ہوتے ہیں۔ تراجم کے ذریعے تاریخی شعور اورتاریخ کے مسلسل ارتقائی عمل کے بارے میں مثبت انداز اور فکر پروان چڑھتے ہیں۔ دور دراز کی تہذیب، ثقافت، تاریخ اور تمدن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر اکادمی کا سیمینار اہمیت کا حامل ہے اور چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک کا احسن قدم ہے۔

ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ ادب اور ثقافت کے شعبوں میں ترجمہ نگاری کی افادیت اور اہمیت مسلمہ ہو چکی ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی زبانیں آج اس خطے کے قومی کلچر کی آئینہ دار ہیں اورعلاقائی زبانوں کے مزاج آشنا اپنی مقامی زبانوں کے فروغ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اسی لیے آج تخلیقی ادب کے نئے اسالیب، نئی اصناف اور فکر میں تراجم کا کردار اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔

پروین ملک نے کہا کہ کسی بھی زبان میں لکھے جانے والا ادب اورعلمی پیش رفت کو دوسری ثقافتوں اور قوموں سے متعارف کرانے کا سب سے موثر ذریعہ تراجم ہیں۔

جمیل احمد پال نے کہا کہ پنجابی زبان میں دیگر زبانوں کے تراجم کم تعداد میں ہوئے ہیں تاہم معیار کے لحاظ سے کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی۔

حمید رازی نے کہا کہ پچھلی دو دہائیوں میں عالمی ادب سے منتخب تحریروں اور کتابوں کے غیر معمولی ترجم ہوئے۔

زاہد حسن نے کہا کہ پنجابی میں قران مجید اور دیگر مذہبی علوم اور شعری اصناف کے ترجمے قدیم عہد سے ہی ہونے شروع ہوگئے جو پنجابی کے ترجمہ شدہ ادب میں ملتے ہیں۔

طارق محمود نین سکھ نے کہا کہ پنجابی میں تراجم کی ایک عظیم روایت موجود ہے جو ماضی قدیم کے پنجابی ادب میں بھی ملتے ہیں۔

شبیر شاہد نے کہا کہ پاکستان کے اہل قلم تراجم کے ذریعے بیرونی دنیا میں ہونے والے ادبی رجحانات کو سمجھ سکتے ہیں۔

مخدوم ٹیپو سلطان نے پنجابی زبان میں تنقیدی اور تحقیقی تراجم کا بین القوامی تناظرمیں جائزہ پیش کیا۔

امجد سلیم منہاس نے کہا کہ کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے ترجمے کی اہمیت مسلمہ ہیں۔

فیصل اقبال اعوان نے کہا کہ اکیسویں صدی تراجم کے لحاظ سے بہت اہم ہے ان بیس سالوں میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی ادب کی اہم کتابوں کے پنجابی تراجم ہوئے ہیں۔

 Pakistan Academy of Letters

Islamabad: (Staff Reporter)In every period of history, the creative activity of writers in Pakistani languages has flourished and at the same time, the translations of foreign literature have enriched Pakistani literature. There is a tradition of translation in the Punjabi language in which great writers have also worked.

These views were expressed by Shafqat Mahmood, Federal Minister for Education and Professional Training & National Heritage and Culture as chief guests in an online seminar on “Translations of World Literature in Punjabi Language” organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL).

The seminar was presided over by Parveen Malik. Dr. Yousuf khushk, Chairman PAL presented an introductory note. Jameel Ahmad Pal, Hameed Razi, Zahid Hassan, Khalid Mahmood, Shabbir Shahid, Tipu Sultan Makhdoom, Amjad Saleem Minhas and Faisal Iqbal Awan presented articles through video link. Dr.  Muhammad Asim Butt Moderated the seminar.

Shafqat Mehmood, Federal Minister, said that translation is fresh air for Golestan Adab of any language and works as fresh blood for the body. The translation is a window that brings new air, fragrances from other cultures and fragrances another language. While translation adorns literature with gems of other languages, it also ignites rage the minds and tastes of readers and writers.

He said that translation provides information on intellectual and scientific progress and literary landscape all over the world. It enhances the understanding of life and develops a way of behaving. Punjabi literature is very rich and fertile which started in the twelfth century AD with the poetry of Baba Farid.

He said that the Punjabi literature being written today is energetic, diverse and influential and is one of the foremost literatures in the world literary scene. It is a fact that at every stage of the evolution of literature, translation and translators are at the forefront. The translation is one of the most effective means of bringing fresh ideas into another language. The process of translation is an evolutionary process by which different civilizations, societies and cultures are transferred to another language as well as knowledge and arts and scholars are irrigated with new sources.

Shafqat Mahmood said that through translation, positive attitudes and thoughts about historical consciousness and the continuous evolutionary process of history develop. Different civilizations, culture, history and civilization can be understood. The seminar of the PAL on this subject is important and is a good step by the chairman Dr. Yousuf Khushk

Dr. Yousuf Khoshk, Chairman, PAL said that the usefulness and importance of translation in the fields of literature and culture have become clear. The translation of creative literature from one language to another has become an effective means of close association with other civilizations.

He said that the regional languages of Pakistan today are a mirror of the national culture of the region and those familiar with the regional languages are taking a keen interest in the promotion of their local languages. That is why the role of translation in new styles, new genres and thought of creative literature has become important today.

Parveen Malik said that translation is the most effective means of introducing literature and scientific progress written in any language to other cultures and nations.   All institutions must take special steps concerning translation so that we know what topics are being discussed around the world.

Jamil Ahmad Pal said that although the number of translations in Punjabi has been low, there is no shortage in terms of quality.

Hamid Razi said that in the last two decades, there have been extraordinary translations of selected writings and books from world literature.

Zahid Hassan said that the translation of the Quran and other religious sciences and poetic genres in Punjabi started from ancient times which are found in the translated literature of Punjabi.

Tariq Mehmood Nain Sukh said that there is a great tradition of translation in Punjabi which is also found in the ancient Punjabi literature.

Shabbir Shahid said that Pakistani writers can understand the literary trends in the outside world through these translations.

Makhdoom Tipu Sultan reviewed the critical and research translations in the Punjabi language in an international context.

Amjad Saleem Minhas said that the importance of translation for the development of any language is obvious.

Faisal Iqbal Awan said that it is very important in terms of translation of the 21st century. In these twenty years, a large number of important books of international literature have been translated into Punjabi.

LEAVE A REPLY