روایتی انداز سے ہٹ کے ، معاشرے کی بے حسی دیکھاتی ہوئی ایک مختصر تحریر۔۔۔ از جنت انصاری / اوکاڑہ

0

اپ جاب کے لیے بیرون ملک گیا۔ وہاں ایک لڑکی پسند آئی شادی کرلی۔ لڑکی نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ماں کہتی ہے میرا بیٹا ہے میرے ملک میں پڑھے گا۔ دوسری طرف باپ کہتا ہے۔ میرا بیٹا ہے جہاں میں چاہوں گا وہیں پڑھے گا۔محبت کی شادی میں میرے تیرے کی تکرار شروع،آخر کار جیت دونوں ہی گئے۔ماں نے ملک نہیں چھوڑا،حب الوطنی جاگی۔ باپ نے بیٹا اٹھایا اور اپنے ملک آگیا۔تصویر نے دوسرا رخ دیکھایا۔باپ نے آتے ہی شادی کر لی۔آٹھ سال کا بیٹا،ماں بھی علیحدگی اختیار کر چکی۔اپنا گھر بسایا۔دونوں گھر بس گئے۔8 سال کے بچے کی محرومی کس نے دیکھی؟سوتیلی ماں نے پیار کیا؟کبھی گود میں بٹھایا؟ آٹھ سالہ بچے کا الگ کمرہ ہے۔بجلی گئی بچہ دبک کے سو گیا۔ بارش آئی بادل گرجے، آغوش میں چھپانے والی ممتا نہیں۔عید آتی خودی ہی کپڑے نکال کر پہن کے نکل گیا۔ سر میں درد ہے کوئی پاس نہیں۔بخار ہے دوا کھلانے والی ماں نہیں۔ ماں اور باپ دونوں اپنی دنیا میں خوش،محرومیوں نے بچے کو جلدی بڑا کر دیا۔رشتوں سے اعتماد اٹھ گیا۔ماں بھی خود غرض، باپ بھی خود غرض، دونوں نے اپنی انا بچائی۔ انا کی جیت میں خوشیوں سے محروم بچہ شکست کھا گیا۔

یہ کہانی ہر اس انسان کی ہے جس نے ایسا کیا اور ہر اس بچے کی ہے جس کے ساتھ ایسا ہوا۔۔ میری تمام والدین سے ہاتھ جھوڑ کے گزارش ہے کہ خدارا اپنی نام نہاد انا کو بچانے کےلئے اپنے بچوں کو قربان مت کریں۔۔

LEAVE A REPLY