انسان اور حیوان ۔۔زوبیہ فاطمہ خان ۔۔ کراچی

0

حقوق و فرائض کی ادائیگی دنیا کی بقا کی
شرط اوّل ہے۔حقوق صرف اشرف المخلوقات تک پابند نہیں بلکہ اللٰؔہ کی ہر مخلوق کے لئے ہیں۔
گذشتہ کچھ روز میں کئ دل دہلا دینے والی خبریں سوشل میڈیا کا حصّہ رہی ہیں جس میں جانوروں کی بے حرمتی اور ظلم کے کئ چہروں کو دنیا کے سامنے لایا گیا خواہ وہ پالتو ہوں یا جنگلی ۔ زہر دینا ، گولی مارنا ، ابلتا پانی پھینکنا ، پاؤں تلے روند دینا یہ اکیسویں صدی میں عام ہوگیا ہے لیکن کیا کوئ قانون کوئ عدالت ہے بے زبان کی زبان سمجھنے کے لۓ ؟ جی احساس کی عدالت ہی کافی ہے جسے ہم اس بھاگتی ہوئ زندگی میں کھو بیٹھے ہیں۔ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ علم اور شعور کی بنیاد پر دیا گیا ہے لیکن آج ہم جانوروں کے ساتھ جانور سے بھی بدتر سلوک کر رہے ہیں اور اسے کامیابی سمجھ رہے ہیں ۔اگر آپ کسی جانور کی بھوک پیاس نہیں مٹا سکتے تو کم از کم پتھر نہ ماریں اگر آپ انکی سردی گرمی کا خیال نہی کر سکتے تو کم از کم انکا قتل نہ کریں ۔کبھی سوچا ہے کہ کس کی مخلوق کو نقصان پہنچا رہے ہیں ؟ کسی بے زبان پر ظلم کر کے آپکو کیا حاصل ہوگا کیوں آج بے زبان جانور حوس کا شکار ہیں؟ کمی اور کوتاہی کس کی ہے؟ خود کا تجزیہ آج اس معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے ، آج حیوان انسانیت کے منتظر ہیں۔
میں شکر گزار ہوں ان تمام ریسکیو اداروں اور انکے ساتھیوں کی جو جانوروں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور انکی بقا کے لئے کوشاں ہے ۔

LEAVE A REPLY