(English Nahi Pnglish)انگلش نہیں پنگلش by Ammar Asif Ammar

0
Nine Common Food Items of Pakistan By Ammar Asif Ammar
Nine Common Food Items of Pakistan By Ammar Asif Ammar

یہ سچ ہے کہ انگریزی زبان اس وقت دینا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اوراگر یہ کہا جائے کہ کسی بھی ملک کی خوشحالی کے لیےانگریزی زبان ناگزیر ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ انگریزی زبان کے زد عام ہونے میں تاریخی طورپر تین عوامل بہت متحرک رہے ہیں جن میں اول یہ کہ سترھویں اور اٹھا رویں صد ی میں انگریز سرکار نے کالونی ازم کے فروغ کے لیے دنیا کاچپا چپا چھان مارا۔ یہ وہ وقت تھا جب تاج برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔اس کے بعد جو عمل شدت سے اس زبان کے فروغ کے لیےعمل پیرا رہا وہ 1760عیسوی کے بعد کا صنعتی انقلاب تھا جس نےنہ صرف برطانوی راج کو تقویت بخشی بلکہ انگریزی زبان کے زدعام ہونے میں بھی اہم کردارادا کیا۔اسی صنعتی انقلاب سے تاج برطانیہ نے دنیا بھرمیں تجارت کے راستے اپنائے ۔اس کے بعد اہم عمل یہ تھا کہ برطانوی حکومت نے انگریزی زبان کوسرکاری طور پر تعلیمی زبان قرار دے دیا۔ان تمام عوامل کے پیش نظر انگریزی زبان آج گلوبل لیونگیج کے طور پراپنی پوری آب وتاب سے چمک رہی ہے۔اوردور دور تک اس زبان کو زیر کرنے والی زبان نظر نہیں آرہی۔

انگریزی زبان کی اصل نرسری راے بہادر کا گھر اور انکل سام کا دیس ہے یعنی برطانیہ اور امریکاانگریزی زبان کےگڑھ مانے جاتے ہیں۔ان کے بعد انگریزی زبان کا استعمال جنوبی ایشاء کے ملک کرتے ہیں۔آج کل مشرق وسطی اور افریقی ممالک بھی انگریزی زبان کو سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔جب کہ چین ،روس اور برازیل جیسے ملک آبادی اور رقبے کے لحاظ سے آگے ہونے کے باوجود صرف انگریزی زبان پردسترس نہ ہونے کی وجہ سے عالمی میڈیا میں کم ہی نظر آتے ہیں۔

گو گل عالمی معیشت کا جن ہے جس کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں کہ گوگل اپنے پرانے حریف ایپل کو خریدنے جارہا ہے جو شاید ہو بھی جائے مگر آج گوگل نے دنیا کی ٹاپ 20 روبوٹ بنانے والی کمپنیاں خرید لی ہیں اور یہ دعوی کر دیا ہے کہ 2020 کے بعد وہ دینا میں روبوٹ فراہم کر نے والی سب سے بڑی کمپنی ہو گی۔ بھلے اس کے دعوی میں 10سال اور لگ جائیں مگریہ حقیقت ہے کہ آنے والا وقت روبوٹ کا ہی ہے اگر کبھی تیسری جنگ عظیم ہوئی تو اس کا اہم ہتھیار روبوٹ ہو ں گے۔ اور شاید تب سرحدوں پر شہید ہونے والوں میں صرف جوان نہیں ہو ں گے۔

ایسے میں پاکستان جیسا ملک جو دنیا کے 192 ممالک میں رقبے کے لحاظ سے 13 واں بڑا جبکہ آبادی کے لحاظ سے 7 واں بڑا ملک ہے۔اس 21 کروڑ والے آبادی کے ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 کروڑسے زیادہ موبائل صارفین ہیں جو کہ دنیا بھر میں موبائل استعمال کرنے والوں میں 8 واں بڑا نمبر ہے ۔اس امر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دینا کی آٹھ ارب آبادی کا صرف 48 فیصد حصہ ہی انڑنیٹ کا استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں یہ تمام افراد یا پھر ان میں اکثریت رومن انگلش سے بہت زیادہ حد تک واقف نگاہ ہیں۔

پاکستان میں کم و بیش تمام ذرائع ابلاغ میں رومن انگلش کا استعمال باقاعدگی سے ہو تا ہے۔ حکومت وقت اور اکابرین زمانہ کو چاہیے کہ ملک کے اعلی سطح کے ایوانوں میں یہ نقطہ بھی زیربحث لائیں۔ آنے والا وقت سافٹ ویر اور موبائل ایپ کا ہے ۔ اگر ہم اردو زبان میں خاطر خواہ فائدہ مند سافٹ ویر اور موبائل ایپ وقت کی ضرورت کے ساتھ رائج نہیں کر سکتے تو ہمیں ابھی سے رومن انگلش کی طرف رخ کر لینا چاہیے اگر کل میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے بعد روبوٹ ڈرون گا ڑیاں یا پھر ٹیکسی سروس کو ملک میں لانچ کرنا چاہیں تو اس کی پروگرامنگ خود سے کر سکیں نہ کہ امریکہ سے لیے گئے ان F-16 طیاروں والا حا ل ہو جن کے انجن آئل بھی تبدیل کر نے کے لیے ہمیں انکل سام کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

ترک زبان سے آگاہی والے افراد کو بخوبی اس بات کا اندازہ ہو گا کہ ترک زبان کا رسم الخط پہلے حروف تہجیہ میں تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کو انگریزی حروف تہجیہ میں تبدیل کر دیا گیا جس کا اثرجدید ترقی پر بہت واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری عام عوام کی زندگی میں بہت مسائل ہیں، ہمیں ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس سے ان کی زندگی آسان بنانے میں ریاست اپنا کردار ادا کر سکے۔

اگر ہم اس امر کو تقویت دینا چاہیں تو ہم اردو زبان کے رسم الخط کو تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ مگر یہ تدبیر شاید ہماری اساس اور دو قومی نظریہ پر سلب ہو تو اس سلسلے میں ہم رومن انگلش اوراردو زبان کے رسم الخط کو ایک ساتھ بھی چلا سکتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم آج تک اپنی اپنی مادری زبان ، اردو، انگلش اور عربی زبانوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔

قوموں کی زندگی میں زبان سے زیادہ اہم ان کا معاشی طور پر مستحکم ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اگر اکابرین زمانہ اس عمل کو ایک پیرے میں لا نے کے لیے الگ سے رومن انگلش کا مضمون رائج کر نے کے لیے پر تول لیں تو یہ ایک بہتر عمل جانا جائے گا۔

LEAVE A REPLY