Chinese Medicine

روایتی چینی طب کی ترقی, محمد کریم احمد، بیجینگ

زندگی میں  ہر انسان کا واسطہ کبھی نہ کبھی ڈاکڑوں سے پڑتاہی ہے۔ طب کا شعبہ ایسا ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ  رہ نہیں سکتا ہے۔ ہر معاشرےاور ملک میں جدید طب کے ساتھ وہاں کی مقامی اور روایتی طب بھی متوازی انداز میں چلتی رہتی ہے۔

جدید سائنس کی ترقی اور سہولیات کی وجہ سے اکژلوگ اب جدید طب کو ہی مناسب اور موزوں خیال کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ روایتی طب کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا ہے۔

چین میں روایتی طب باقاعدہ ایک ادارے کی شکل میں موجود ہے۔اور لوگ اس کو ایک مستند طریقہ علاج کے طور پر مانتے ہیں اور بیماری کی صورت میں  چینی روایتی طب  کے اداروں کا رخ کرتے ہیں۔

روایتی چینی طب کا دائرہ کار اب چین کی سرحدوں سے نکل کر باہر جا رہا ہے۔چینی روایتی طب کو اب روڈ اینڈ بیلٹ انشیٹو  کے سا تھ منسلک ممالک تک فروغ دیا جائے گا۔ اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

چین کی ریاستی کونسل کے چینی روایتی طب کے بین الاقوامی  تعاون کے شعبے کے ڈائریکٹر  وانگ شیاوئپن  کا کہنا ہےکہ  اس منصوبے کےتحت  تعاون اور ترقی کو روڈا ینڈ بیلٹ سے منسلک ممالک تک پھیلایا جائے گا۔

اس منصوبے میں  خدمات کی فراہمی، سائنسی تحقیق، ادویات کی صنعت، تجارت ، تعلیم اور ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔   روڈ اینڈ بیلٹ انیشٹو میں بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے سرمایہ کاری اور تجارت شامل ہیں اور یہ ایشیا،  یورپ اور دیگر علاقوں کو ملا رہا ہے

اس میں ساٹھ سے زائد ممالک اور چار اعشاریہ چار ارب لوگ شامل ہیں۔

روڈ اینڈ بیلٹ کے روٹ کے ساتھ  دوہزار سترہ کے اختتام تک سترہ روایتی چینی طب کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔

دوہزار گیارہ اور چودہ کے درمیان  روس، فرانس، ملائیشیا، اٹلی،آسٹریلیا، قطر، سمیت تیس سے زائد ممالک نے روایتی چینی طب میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔  دوہزارپندرہ میں  روایتی  چینی طب کی مصنوعات  کی برآمدات کا حجم  کم و بیش  تین اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر تھا اور روڈ اینڈ بیلٹ روٹ پر واقع بہت سے ممالک نے روایتی چینی طب کو تسلیم کیا ہے۔  تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں روایتی چینی طب کی مجموعی مارکیٹ ویلیو  بشمول خدمات اور ادویات  پچاس ارب ڈالر ہے

چین کے جنوب مغربی صوبے گوئچو  نے روایتی چینی طب کے شعبے میں  دو ہزار

اٹھا رہ میں  پانچ سو چوبیس اعشاریہ آٹھ بلین یوان  کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی ہے۔  یہ سرمایہ کاری تین سو  بیس صحت کے پروجیکٹس پر کی جائے گی۔ توقع ہے کہ اس صوبے میں صحت  کے شعبے میں  سرمایہ کاری کا حجم  دو ہزار بیس تک  چار سو بلین یوان تک پہنچ جائے گا۔  اور یہ صوبے کے جی ڈی پی کا دس فیصد ہو گا۔

صوبہ گوئچو  روایتی چینی طب میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں، پودوں اور درختوں کی پیداوار کے لیے ساز گارہے۔  اس صوبے میں تین لاکھ چونسٹھ ہزار  چھ سو چھیاسٹھ  ہیکٹر پر روایتی چینی طب میں استعمال ہونے والی اشیاء کو کاشت کیا جارہا ہے۔

بہت سی کمپنیاں اس حوالے سے یہاں پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

چین میں روایتی طب کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر کا اجراء بھی کیا گیا ہے۔ وائٹ پیپر کے مطابق  روایتی چینی طب  ایک سو تراسی ممالک اور علاقوں تک پھیل چکی ہے۔  عالمی ادارہ صحت کے مطابق  ایک سو تین ممبر ممالک نے  آکو پنکچرنگ اور بدن کو توانائی دیے جانےکے عمل کی منظوری دی ہے۔  انتیس ممالک نے روایتی چینی طب کے حوالے سے خصوصی قوانین وضع کیے ہیں۔ اور اٹھارہ ممالک نے  روایتی چینی طب کے ذریعے علاج کو انشورنس میں شامل کیا ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق  روایتی چینی طب  کے کچھ طریقہ کار کو  روس، کیوبا، ویت نام، سنگاپور، متحدہ عرب امارات نے  تسلیم کیا ہے ۔ چین سے باہر  دس روایتی چینی طب کے مراکز قائم کیے گیے ہیں۔ اور یہ تمام مقامی آبادی میں  مقبول ہیں۔  چھیاسی ممالک اور علاقوں کی حکومتوں نے  روایتی چینی طب کے میدان میں  تعاون کے حوالے سے چینی حکومت کے ساتھ معاہدے کیے ہیں

چین میں روایتی چینی طب سے منسلک  ماہرین کی تعداد گزشتہ سال  چارلاکھ باون ہزار تھی۔  اور دو ہزار نو سے  دو ہزار پندرہ کے درمیان   روایتی چینی طب کے تحت  صحت کی سہولیات کی فراہمی میں   چودہ اعشاریہ تین سے پندرہ اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا۔

 

بیجنگ یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن  کے پروفیسر یانگ  چن کا کہنا ہےکہ  آکو پنکچرنگ کو بہت سے ممالک میں اپنایا جار ہا ہے۔ اور وہ وہاں مقامی آبادی میں مقبول بھی ہیں۔ چینی روایتی طب کو زیادہ شہرت  ایک امریکی ایتھلیٹ کی جانب سے کپنگ کے نشانات کے ساتھ حصہ لینے سے ملی تھی جب پوری دنیا ان نشانات کی جانب متوجہ ہوئی۔

روایتی چینی طب کےذریعے علاج موثر اور سستا بھی ہے ۔اس لیے یہ دنیا بھر میں فروغ پار ہا ہے