سی پیک کلچرل کارواں پاکستان اور چین کے درمیان ہزاروں سال پرانے تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کی احیاء کا اہم ذریعہ ثابت ہو گا

0

اسلام آباد :۔ سی پیک کلچرل کارواں پاکستان اور چین کے درمیان ہزاروں سال پرانے تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کی احیاء کا اہم ذریعہ ثابت ہو گا۔ اس منصوبہ کا مقصد دونوں ممالک کے فنکاروں کو ایک ساتھ کام کرنے اور ایک دوسرے کے ثقافتی ورثہ سے آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ نیشنل آرٹسٹ کنونشن اور سی پیک ثقافتی منصوبوں میں حکومتی دلچسپی اور معاونت موجودہ حکومت کی فن ا ور فنکار سے محبت کا ثبوت ہے۔ اِن خیالات کا اظہار پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل جمال شاہ نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ جمال شاہ نے پی این سی اے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کل ہی حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں نیشنل فلم اکیڈمی کے قیام کی منظور ی دی گئی ہے اور اس مقصد کے لئے 55 ملین روپے بھی مختص کر دیئے گئے ہیں۔ فلم اکیڈمی ایچ نائن میں اکیڈمی کے لئے مختص پلاٹ پر بنے گی۔ جمال شاہ نے مزید کہا کہ حال ہی میں سرکاری اداروں میں آویزاں نادر فن پاروں کے ریکارڈ کی ڈیجٹیلازیشن(Digitlisation) کی تیاری کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل آرٹ گیلری کی سیکیورٹی کا منصوبہ اور پی این سی اے میں ڈیجیلائز آرکائیو لائبریری (Digitalise Archive Library) پر کام جاری ہے۔ نیشنل سینٹر برائے پرفارمنگ آرٹس / نیشنل تھئیٹر کا قیام شکر پڑیاں میں مختص7 ایکٹر زمین پر عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ علاقائی ثقافتوں کو قومی دھارے میں لانے اور علاقائی ورثہ کو محفوظ کرنے کے لئے پی این سی اے جلد تمام صوبائی دارلحکومتوں میں اپنے دفاتر کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔جمال شاہ نے کلچر ل کارواں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے فنکاروں پر مشتمل کارواں میں اپنا سفر چین کے صوبہ سنگیانگ سے شروع ہوااور اُرمچی ، خنجراب ، گلگت ، پشاور ، اسلام آباد ، لاہور ، کوئٹہ اور کراچی سے ہوتا ہوا گوادر پہنچا ۔ فنکاروں نے اپنے سفر کے دوران شاہراہ ریشم (Silk Route) پرواقع اِن تمام علاقوں کے ثقافتی ورثہ اپنے اپنے انداز سے تصاویر، مصوری ،فلم بندی اور موسیقی کے ذریعے محفوظ کیا جو کہ 24 سے 25 تاریخ تک سی پیک کلچر ل کارواں اور نیشنل آرٹسٹ کنونشن کے موقع پر پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسے تاریخی کام آغاز ہو ا ہے جو آگے چل کر دونوں ملکوں کے مابین رشتوں کو مزید مضبوط سے مضبوط ترکرتا چلا جائے گا۔ جمال شاہ نے کہا کہ آرٹسٹ کنونشن اُن کی ایک دیرینہ خواہش تھی جو کہ موجودہ حکومت کی خصوصی دلچسپی سے ممکن ہوا ہے۔ نیشنل آرٹسٹ کنونشن میں ملک بھر سے فنکاروں ، مصوروں ، گلوکاروں اور فنونِ لطیفہ کے تمام شعبوں سے وابسطہ افرادشرکت کر ر ہے ہیں۔ اس کنونشن کا اصل مقصد فن اور فنکار کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور فنونِ لطیفہ کی ترقی کے لئے خصوصی اقدامات اُٹھانے کے لئے سفارشات مرتب کرنا ہے ۔ اِن سفارشات کو 26 تاریخ کو وزیراعظم پاکستان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے قدیم ترین ثقافتی ورثہ کا مالک ہے اور سیاحت کو فروغ دیکر خاطر خواہ زرِ مبادلہ کماسکتا ہے۔جس کے لئے مثبت حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر اور خصوصاًذرائع ابلاغ کو پاکستان کے خوبصورت تشخص کو اُجاگر کرنا چاہیے تاکہ دُنیا پاکستان کو بہترطور پر جاننے اور ایک منفی تاثر جو پیدا ہو چلا ہے اُس کی نفی ہو اور لوگ یہاں بِلا خوف و خطر آئیں۔ یاد رہے کہ اِن دنوں پی این سی اے میں 24 تا26 فروری کو منعقد ہونے والے سی پیک کلچرکا رواں اور نیشنل آرٹسٹ کنونشن کے لئے تیاریاں جاری ہیں

LEAVE A REPLY