浙江旅行记录片by Muhammad Haseeb (محمد حسیب (سفرنامہ چےچیانگ

0
浙江旅行记录片by Muhammad Haseeb (محمد حسیب (سفرنامہ چےچیانگ
浙江旅行记录片by Muhammad Haseeb (محمد حسیب (سفرنامہ چےچیانگ

对我来说旅行是非常有意思的,每次有机会有时间我都去旅行,在中国旅行真的很有意思。在中国旅行方式分两种,一种是跟旅行团一起去另一种是自己去。跟团游没什么意思但是自己去就很有意思了,因为自己去旅行的时候你可以想去哪儿就去哪儿,想吃什么就吃什么,想住哪儿就住哪儿,所以我很喜欢自己去旅行。

上学期的最后几天,我计划去拜访我在宁波的朋友,所以最后考试的那天我就已经买好了去宁波的票,然后踏上了旅途。北京直达宁波的票比较贵,所以我从北京到杭州坐快车然后从杭州到宁波坐动车。我是7月5日的那天出发的,出发之前我做了饭准备途中吃,收拾了行李,准备了需要的东西,提前坐地铁到了北京站。

晚上7点钟火车出发了,在路上只有两个停靠站,14个小时后到了杭州站, 因为我们要去杭州东站坐动车去宁波,所以我坐地铁去了杭州东站。等到周五上午11点半到了宁波的时候,我的朋友已经在火车站等我了。我们一起去了清真寺做主麻礼拜,礼拜做完后我们去了我朋友家。到他家后,我们吃了午饭然后就休息了。晚上的时候见了几个朋友,和他们见面以后我们就去休息了。

第二天一早,吃完早餐我们就去市场买菜准备午饭,下午吃晚午饭我们去了宁波科技大学,在那里见了欧洲的朋友们,我们几个一起在校园了转了转,散散步聊聊天。晚上回到家吃晚饭后我们就休息了。第三天早上吃早餐后我们到了宁波大学,在那里见了也门和沙特阿拉伯的朋友们。和朋友们在大学里聊天游玩不知不觉就19点了,等我们一起做完沙目礼拜后就回家吃晚饭,晚饭后在中国科学院宁波分校见了巴基斯坦的朋友们。这一天我们睡得很晚所以第四天睡了会儿懒觉,早餐后我去了宁波诺丁汉大学,我了解到了博士生入学信息,也见了老师和工作人员,参观了诺丁汉大学。我认为这是宁波最漂亮的大学,在大学里面,一排的树环绕在湖周围,树影映在湖中随着清风吹起的涟漪上下摆动,真的很美。下午4点左右我们回家吃饭,然后去参观了浙江理工学院和浙江艺术与时尚大学。

第五天,也就是周二,我们准备回北京了,我订的是从宁波到杭州的动车,然后从杭州到北京的快车的车票。动车出发后不到一个小时就到了杭州东站。因为火车是从杭州站开往北京的所以我得坐地铁去杭州站,在杭州站等了4个小时以后又踏上了回京的旅途。我在火车上见了中国人,火车开的可真快,聊着天不知不觉中就到了北京。

杭州和宁波都是浙江省的城市,杭州是浙江省的省会。杭州站跟北京站差不多但是杭州站更小一点。我困得杭州是最漂亮的城市。宁波是一个小城市但有世界上第二大的海港。在宁波只有两条地铁线路,其它的线路正在建设中,很多高楼也在建设中。那边的绿地很多,景色很美,风也很大,最高的温度是30•度。我建议你们,如果有机会的话一定要去看那边优美的景色。

سفر میرا دلچسپ مشغلہ ہے، اکثر موقع اوروقت ملتے ہی میں سفر کو پسند کرتا ہوں،چائینہ میں سفر کرنا بہت دلچسپ مشغلہ ہے۔چائینہ میں سفر دو طرح کا ہوتا ہے، ایک کسی ٹریول ایجنسی کے ساتھ سفر کرنا اور دوسرا خوداکیلے سفر کرنا۔ٹریول ایجنسی کے ساتھ سفر کرنے میں اتنا مزہ نہیں آتا جتنا اکیلے سفر کرنے میں مزہ آتا ہے۔اکیلے سفر کا یہ فائدہ ہے کہ آپ اپنی مرضی کی جگہوں پر جاسکتے ہیں اپنی مرضی کا کھانا کھاسکتے ہیں اور اپنی مرضی کی جگہ پر قیام کرسکتے ہیں۔میں اکیلے سفر کرنا پسندکرتا ہوں۔

آخری سمسٹر کے آخری دِنوں میں میں نے صوبہ چےچیانگ کے شہر ننگبو جانے کا پروگرام بنایا۔لہٰذا آخری پرچہ دے کر میں ننگبو جانے کیلیے تیار تھا۔میں نے اس سفر کے تمام ٹکٹ پہلے سے ہی خرید رکھے تھے اسلیے سفر باآسانی شُروع ہوگیا۔بیجنگ سے ننگبو پانچ گھنٹے کی صرف تیزرفتار ریل جاتی تھی اور وہ مہنگی بہت تھی، میں نے بیجنگ سے ہانگچو کا آہستہ ٹرین اور ہانگچو سے ننگبو کاتیزرفتار ٹرین کا ٹکٹ بُک کروایا۔یہ پانچ جولائی ۲۰۱۸ کا دِن تھا جب میں نے اپنا سفر شُروع کیا۔سفر شروع کرنے سے پہلے میں نے راستے کیلیے کھانا، سامان اور ضرورت کی چیزیں تیار کیں اوروقت مُقررہ سے پہلے بیجنگ ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔

شام سات بجے ریل گاڑی روانہ ہوئی،راستے میں دوجگہوں پر معمولی بریک کے بعد چودہ گھنٹے میں ٹرین ہانگچو ریلوےاسٹیشن پہنچ گئی۔ہانگچو سے ننگبو کا سفر بذریعہ تیزرفتار ریل ہانگچو مشرقی ریلوے اسٹیشن سے تھا اسلئے میں ہانگچو ریلوےاسٹیشن سے بذریعہ زمین دوز ریل ہانگچو مشرقی ریلوے اسٹیشن پہنچا، ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ننگبو ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ وہاں پر دوست پہلے سےہی موجود تھا۔ یہ جُمعہ کا دن تھا ہم جُمعی کی نماز ادا کرنے مسجد پہنچے، نمازِ جُمعہ ادا کرنے کے بعد ہم دوست کے گھر پہنچ گئےاور دوپہر کا کھانا کھایا۔ شام میں کُچھ دوستوں سے مُلاقات ہوئی اور گھر واپس آکر سوگئے۔ اگلے دِن صبح ناشتہ کرنے کے بعد بازار چلے گئے اور کُچھ سبزیاں اور سوداسلف خرید کر لائے۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعدننگبو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی گئے جہاں پر افریقی دوستوں سے مُلاقات کی، یونیورسٹی میں گُھومے اور اس دورا مزید کُچھ دوستوں مُلاقات ہوئی۔ رات کو واپس گھر آگئے اور کھانا کھا کر سو گئے۔ تیسرے دِن صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد ننگبو یونیورسٹی چلے گئے اور وہاں بھی کُچھ افریقی دوستوں مُلاقات ہوئی، یونیورسٹی میں مُختلف مُقامات پر گئے جہاں پر مزید یَمن اور سعودیہ عرب کے دوستوں سے مُلاقات ہوئی۔ تقریباً شام کے سات بج چُکے تھے، مغرب کی نماز ادا کرکے وہاں سے گھر واپس آگئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد چائینہ اکیڈمی آف سائنس ننگبو میں کُچھ پاکستانی دوستوں سے مُلاقات کی۔ اس روز رات کو ہم تھوڑا دیر سے سوئے اس لیے چوتھے روز دیر سے آنکھ کُھلی۔ صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد میں ننگبو نوٹنگھم یونیورسٹی چلا گیا کیونکہ مُجھے وہاں سے پی ایچ ڈی کے داخلے کے بارے میں کُچھ معلومات لینا تھیں۔وہاں پر کُچھ اساتذہ اور سٹاف سے مُلاقات کی اور یونیورسٹی میں مُختلف جگہیں دیکھیں، یہ واقعی بہت خوبصورت یونیورسٹی ہے اس یونیورسٹی میں ایک بڑی جھِیل ہے، یہاں کا منظر بہت دلفریب ہے۔شام کو تقریباً چاربجے دوست کے گھر واپس پہنچا اور دوپہر کا کھانا کھایا، اُس کے بعد چےچیانگ فیشن اینڈڈیزائن یونیورسٹی اور چےچیانگ انجینئرنگ یونیورسٹی ننگبو کیمپس کا وِزٹ کیا۔

 

پانچویں دِن؛ بروز منگل صبح ناشتے کے بعد بیجنگ کیلئے واپس روانہ ہوا۔ ننگبو سے ہانگچو تیزرفتار اور ہانگچو سے بیجنگ آہستہ رفتار ریل کا سفر تھا۔ ایک گھنٹے کے اندر ننگبو سے ہانگچومشرقی ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا، ہانگچو سے بیجنگ کی ٹرین ہانگچو ریلوے اسٹیشن سے تھی، اسلئے ہانگچو مشرقی ریلوے اسٹیشن سے ہانگچو ریلوے اسٹیشن بزریعہ زمین دوز ریل پہنچا۔وہاں چار گھنٹے انتظار کے بعد بیجنگ کا سفر شُروع ہوا، ریل گاڑی میں چینی لوگوں سے باتیں کیں اور چودہ گھنٹے کے اندر بیجنگ پہنچ گیا۔

 

ہانگچو اور ننگبو صوبہ چےچیانگ کے شہر ہیں، ہانگچو چےچیانگ کا صدر مُقام ہے۔ہانگچو ریلوےاسٹیشن اور بیجنگ ریلوےاسٹیشن دیکھنے میں تقریباً ایک جیسے ہیں، لیکن ہانگچو ریلوے اسٹیشن تھوڑا چھوٹا ہے۔ہانگچو ایک خوبصورت شہر ہے اور ننگبو بھی ایک چھوٹا خوبصورت شہر ہےلیکن ننگبو دُنیا کی دُوسری بڑی تجارتی بندرگاہ ہے۔ ننگبو میں زمیں دوز ریل کی ابھی صرف دو لائنیں ہیں باقی لائنیں زیرِ تعمیر ہیں، ننگبو چونکہ ابھی نیا ترقی پذیر شہر ہے اسلئے اس میں ابھی تعمیر ہورہی ہے اوربڑی بڑی نئی عمارات زیرِتعمیر ہیں۔ یہاں کی آبادی بہت کم ہے اور یہاں سبزہ بہت ہے، یہاں کا نظارہ بہت خوبصورت ہے۔ یہاں ہروقت ٹھنڈی ہوا چلتی رہتی ہے اوردرجۂ حرارت ۳۰ ڈگری تھا۔میں آپ لوگوں کو بھی مشورہ دیتا ہوں اگر موقعہ ملے تو ننگبو ضرور جائیں اور یہاں کا موسم اور آب وہوا سے لُطف اندوز ہوں۔

LEAVE A REPLY