سیاسی ڈا ئری رجب علی راجا دھمیال راولپنڈی

0
Rajab Ali Raja

 

Raja Bisharat
Ch. Nisar Ali Khan
Gulam Sarwar Khan

حلقہ این اے 59 ہمیشہ اپنے سیاسی لیڈروں کے دیدا ر سے محروم رہا اس کی مثال گزشتہ الیکشن میں چوہدری نثار علی خان کے جانثار ان کے ایک دیدار کو ترستے رہے اور ہاتھ ملانے کی آروزو میں دھکے کھاتے رہے لیکن اپنے اس خواہش کو پائے تکمیل تک نہیں پہنچا سکے اور 35سال تک اقتدار کے ایوانوں کے مزے لینے والے چوہدری نثارکو انھی وجوہات پر لوگوں نے مسترد کر کے ایوانوں سے نکال دیا لیکن تاحال میڈیا اور دیگر سیاسی جماعتوں میں وہ اپنی حثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں وہ کسی بھی پارٹی میں جائیں تمام پارٹیاں ان کواپنے ساتھ رکھنے اور چلانے کے لیے بے قرار ہیں ہر پارٹی چوہدری صاحب کو ساتھ رکھنے کے لیے ان کو ہر قسم کے عہدہ دینے کے لیے تیار ہوجائے گئی کیونکہ ان کادامن صاف ہے ان پر کرپشن یا کسی بد عنوانی کا کوئی بھی کیس نہیں لیکن ان کے لوگ نے ان کے نام پر بہت کچھ بنا لیااور بہت کچھ بنا رہے ہیں صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہونے کے باوجود وہ اس کاحلف نہیں لے رہے یہ ووٹر کی تو ہین ہے چوہدری صاحب نہ تو اسمبلی کی سیٹ چھوڑ رہے ہیں نہ ہی وہ ن لیگ کو چھوڑ رہے ہیں کچھ فیصلے وقت پر ہی اچھے لگتے ہیں وقت گزرنے کے بعد وہ بڑئے فیصلے بھی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے 2018کے الیکشن میں اگر چوہدری صاحب وقت پر فیصلہ کر پاتے اور عوام سے ہاتھ ملا پاتے تو اب ان کامقام پاکستانی سیاست میں تمام سیاست دانوں سے بڑا ہوتا لیکن وہ الیکشن میں بھی فیصلہ نہیں کرپائے اور تاحال وہ سوچ میں پڑے ہیں ۔ انسان کو اپنی منزل پانے کے لیے زندگی میںتبدیلی ضروری ہے
دوسری طرف وزیر پٹرولیم غلام سرور خان اپنے وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں سے ٹیلی فونک رابطے میں ہیں اور ہر ہفتہ اور اتور کو اپنے ڈیرے پر سینکڑوں لوگوں کوملتے ہیں اور ان کے مسائل سنتے ہیں اوران کے حل کے لیے کام بھی کر رہے ہیں پاکستانی سیاست میں تمام حلقے کے ایم این اے ، ایم پی ائے اپنے وزارت ہونے کے باوجود تھانے ،تحصیل دفاتر اور پٹوار خانے کے معاملات کا اضافی قلمدان بھی ہمیشہ اپنے پاس رکھتے ہیں اپنوں کو اس سے خوب فائدہ دیتے ہیں جو کہ پاکستانی سیاست میں بنیادی حقیقت بن چکی ہے تبدیلی سرکار بھی اس اس اضافی قلمدان کو ختم کرنے میں مکمل ناکام رہی ۔ وزیر پٹرولیم جناب غلام سرور خان صاحب کے حلقے کے آدھے گاوں جدید دور میں بھی بنیادی سہولت گیس سے محرو م جبکہ باقی 50 فیصد کو گیس کی لوڈ شیڈگ کاسامنا جبکہ 60 سے70فیصد علاقہ کو پانی کی کمی ارو روڈ گلیوں کی شدید خستہ حالی کا سامنا یہ حلقے کے بنیادی مسائل کو ن حل کرئے گا عوامی حلقے اپنے لیڈروں کے دیدار کو ترس گے
جبکہ دھمیال ہاوس کے راجگان برادران وزیر قانون محمد بشارت راجہ جوکہ شریف نفس ہونے کے ساتھ ساتھ خوش شکل اور خوش قسمت بھی ہیں وزیر قانون بننے کے بعد خوب متحرک اور پی ٹی ائی کے ساتھ ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں ۔ محمد بشارت راجہ کے کچھ رشتہ داروں کے نام قبضہ گروپوں کی فہرست میں آ رہے ہیں جو ان کی وزارت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ تھانوں او ر دیگر اداروں میں ان کے رشتہ داروں کااثر رسوخ بڑھ رہا ہے اسے ہم سیاسی عمل بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ جو لوگ ان کے ساتھ الیکشن میں چلے انھوں نے اپنے جائز اور ناجائز کا م کے لیے ان کے پا س آ نا ہے اور کچھ مفاد پرست جو ہر سیاست دان کے گھر وزارت میں مہمان ہوتے ہیں ان کے بھی کام ہوتے ہیں اور یہ لوگ سیاست دانون کی مجبوری بن جاتے ہیں ۔ اس وقت غلام سرور خان کا حلقہ چوہدری نثار کے آبائی گاوں اور راجہ محمد بشارت کا آبائی گاوں پر مشتمل ہے ان تمام لوگوں کی امیدوں کے مرکز غلام سرور خان ہیں کیونکہ چوہدری صاحب سے ملنا مشکل ہے جبکہ راجگان برادران اپنے حلقہ کی سیاست کو چھوڑ کر کینٹ کی سیاست میں ہجرت کر چکے ہیں اس لیے تمام نگاہیں وزیر پٹرولیم کی جانب ہیں جن میں گیس پانی اور ہسپیتال بنیادی ضروریات ہیں دھمیال اور موہری غزن کے پانی کے لیے تو چوہدری نثار نے 22کروڑ کی بڑی گرانٹ دی ہے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے پر ناقص کام کرپشن اوراپنے پسندکے علاقے کوپانی دینے کے معاملات سامنے آئے جس پر چوہدری نثار نے کوئی ایکشن نہیں لیا اب جبکہ پی ٹی ائی حکومت میں الیکشن کے تحت راجہ اشتیاق گروپ اس واٹر سپلائی کو چلانے کے لیے پر عزم ہیں لیکن فنڈ کی کمی کی بدولت وہ بھی پریشان ہیں واثق قیوم عباسی صاحب اور غلام سرور خان صاحب اس سیاسی یتیم حلقے کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے اور اس پروجیکٹ پرچیک اینڈ بیلنس کے لیے ٹیم بنائی جائے جو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو

LEAVE A REPLY