(د نیا کے نقشے پر ا بھر تی ہو ئی معا شی طا قت چین (عائشہ عالم

0
د نیا کے نقشے پر ا بھر تی ہو ئی معا شی طا قت چین

2013

کے بعد ا گر صو ر تحا ل کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو چین کی معا شی حکمر ا نی کاتا ج ا س وقت پو ر ی د نیا پر چمک ر ہا ہے ۔ ا یک و قت تھا جب چین ہر لحا ظ سے پستی کا شکا ر تھا لیکن و قت کبھی ا یک سا نہیں ر ہتا بد لتے و قت کی ر فتار نے چین کے حا لا ت کو بلکل تبد یل کر کے ر کھ د یا ہے ۔1978میں چینی حکمر ا نو ں نے جن معا شی پا لیسی کا آ غا ز کیا تھا ا س کے ثمر ا ت آ ج کی جد ید د نیا کے سا منے ا یک ر و شن مثا ل ہے ۔ اس وقت چین تجا ر تی مر کز کی حیثیت ا ختیا ر کر چکا ہے۔ چین ا پنا تجا ر تی اثر و رسو خ صر ف پڑ و سی مما لک تک ہی نہیں بڑ ھا ر ہا بلکہ یو ر پی ، ا فر یقی اور ا شیا ئی مما لک تک چین ا پنا اثر و ر سو خ بڑ ھا ر ہا ہے۔ چین ا ور بڑ ے سرمایہ د ارمما لک میں یہی ا یک بنیا د ی فر ق نظر آ تا ہے کہ چین ا من کے ز ر یعے د نیا پر تر قی کے در و ا زے کھو لنا چا ہتا ہے ۔ جبکہ سر ما یہ د ار مما لک معا شی ا ستحصا ل کر کے مظلو م ا ور محکو م قو مو ں پر ا پنی اجا رہ د ا ر ی قا ئم کر نا چا ہتا ہیں لیکن ا گر حا لا ت اور وا قعا ت کا جا ئز ہ لیں تو نہ صر ف ا س خطہ میں بلکہ د نیا کے با قی مما لک میں بھی چین کی تر قی کا ر ا ستہ رو کا جا ر ہا ہے۔خا ص کر ا مر یکہ ا نڈ یا کو چین کے مقا بلے میں لا نا چا ہتا ہے
تا کہ چینی ا ثر ات کو کم کیا جا سکے70،80اور 90کی د ھا ئی میں جر منی ، جا پا ن ، ہنگر ی کی بنی ہو ئی ا شیا ء کی ما نگ د نیا کے کو نے کو نے میں تھیں لیکن بد لتے و قت اور حا لا ت نے چینی مصنو عا ت کی ما نگ میں خاطر خو ا ہ ا ضا فہ ہو ا ہے ا س صو ر تحا ل کو مد نظر ر کھتے ہو ئے چین نے ا پنی مصنو عا ت کو اس طر ح تیا ر کیا ہے کہ و ہ ہر عا م و خا ص کی پہنچ میں آ سا نی سے آ سکتی ہیں 1978میں بنا ئی گئی چینی پا لیسی کے ثمر ا ت آ ج سب کے سا منے ہیں ۔ چین کے حا لا ت بد لنے کے سا تھ سا تھ چین کے خطے کی تقد یر بھی بد ل ر ہا ہے ۔ جن کے ا ثرا ت بر ا ہ را ست د و سر ے مما لک میں بھی نظر آ ر ہے ہیں کیو نکہ چین معا شی طا قت ہو نے کے سا تھ سا تھ ا یک بڑ ی طا قت بھی ہے اور د نیا میں ا من و اما ن کو بر قر ا ر ر کھنے میں ا س کا ا یک خا ص کر د ا رہے یہی و جہ ہے کہ ا قوا م عا لم میں عو ا می جمہو ر یہ چین کا خا ص مقا م ہے اس وقت خطے کے تما م مما لک میں چا ئنہ کسی نہ کسی طر ح سر ما یہ کا ر ی کر ر ہا ہے ۔مثا ل کے طور پر سر لنکا ، بنگلہ د یش ، بر ما ، پا کستا ن اور ا فغا نستا ن جیسے پسما ند ہ مما لک میں چین بڑ ے منصو بے لگا چکا ہے ۔ سی پیک اسکی ا یک بڑ ی مثا ل ہے ۔ ما ہر ین کے بقو ل 2025کے بعد چین کی تر جیحا ت مکمل تبد یل ہو ں گی لیکن و قت سے پہلے کچھ کہنا منا سب نہیں لگتا ۔ یہ تو وقت ہی بتا ئے گا کہ بد لتے و قت کے سا تھ کتنا بد لے گا ۔ چین جغر ا فیائی ا عتبا ر سے ا گر جا ئز ہ لیا جا ئے تو چین کے پڑ و سی مما لک ا ن ا قد ا ما ت کو قد ر کی نگا ہ سے د یکھتے ہیں ۔ بھا ر ت ا س خطے کا و ہ و ا حد ملک ہے جو نہیں چا ہتا کہ چین کی تر قی کے ثمر ا ت با قی مما لک تک پہنچ سکیں ۔ CPECجب آ یا ا نڈ یا نے ہر طر ح سے منفی پر و پیگنڈ ا کیا یا خا ص کر ا نڈ یا کیمیڈ یا نے ا س ا ند ا ز سے پیش کیا کہ جیسے ا یک ا ور ا یسٹ انڈ یا کمپنی آ گئی ہو کیو نکہ 62ملین ڈا لر کی امد ا د کو ئی چھو ٹی مو ٹی ا مد ا د نہیں تھی یہ ا یک شا ند ا ر اور تا ر یخ سا ز سر ما یہ کا ر یہے جس نے پا کستا ن کے منظر نا مے کو تبد یل کر د یا ہے اور ا س طر ح کے منصو بے با قی مما لک میں بھی جا ر ی ہیں لیکن ا مر یکہ ا ور اس حو ا ر ی کبھی بھی یہ بر دا شت نہیں کرسکیں گے کی تیسر ی د نیا کے ممالک تر قی کر یں اور د نیا میں صحیح معنو ں میں تبد یلی آ ئے ۔ا مر یکی سر ما یہ دا ر طبقہ ا پنا ا ثر و ر سو خ قا ئم کر نا چا ہتا ہے اس صور تحا ل کو سامنے ر کھتے ہو ئے تیسر ی د نیا کے مما لک کو چا ہیے کے و ہ چینی طرز کی پا لیسی اپنائیں اور ا پنے پا ئو ں پر کھڑ ا ہو نے کی کو شش کر یں کیو نکہ پا کستا ن اور بھا ر ت کے بعد آ ذا د ہو نے و الا ملک ہے اور اس و قت پو ر ی د نیا کے لیے معا شی تر قی کی علا مت بن چکا ہے ۔ و ن ر و ڈ و ن بلڈ منصو بے کے تحت اس و قت چھ بڑ ے ا کنا مک کو ر ی ڈ و ر پو ر ی د نیا میں لگاچکا ہے ۔
New Russian Land Bridge.
China – Mongolia – Russaia, China – Central Asian Westran Asian, Indo- China Peninsula.
China – Pak and Bangladesh -China India Maymar
چین کے یہ منصو بے د نیا کے سا منے حقیقت کا ر و پ د ھا ر چکے ہیں مثا ل کے طو ر پر ا س وقت چین کے د و طر فہ تعا و ن کے معا ہد ے نہ صر ف پڑ و سی مما لک کے سا تھ کیے جا ر ہے ہیں بلکہ ا ن میں ہنگر ی ، تر کی ، انڈو نیشیا ، تا جکستا ن ، منگو لیا ، ا یر ا ن اور عر ب ر یا ستیں شا مل ہیں جس سے ا بھر تے ہو ئے چین کے عر و ج کا ا ند ا ز ہ بخو بی لگا یا جا سکتا ہے۔ چین ا س و قت ز مینی اور سمند ر ی دو نو ں ر ا ستو ں کو بر و ئے کا ر لا کر معا شی اور د فا عی ا ثر و ر سو خ د نیا پر قا ئم کر نا چا ہتا ہے ۔ اس میں چین کا فی حد تک کا میا ب بھی ہوچکا ہے کیو نکہ جو منصو بے دو سر ے مما لک میں لگا ر ہا ہے ان میں بند ر گا ہ کی تعمیر سڑ کو ں ، ر یلو ے کی تر قی ، مو با ئل ٹیکنا لو جی ، تھر مل ، کو ئلہ ، بجلی اور ا یٹمی ا نر جی کے منصو بے شا مل ہیں یہی و جہ کہ بڑ ی تعد ا د میں چینی کمپنیا ں دو سر ے مما لک میں تر قیا تی منصو بو ں میں مصر و ف ہیں ۔جن منصوبو ں میں تیل ، گیس ،آ ئی ٹی ، ٹیلی کا م ، پا نی ا ور بجلی کے منصو بو ں کے سا تھ سا تھ سڑ کو ں کی تعمیر ا ور تر قی کے منصو بے شا مل ہیں ۔ جہا ں جہا ں یہ منصو بے لگا ئے جا ر ہے ہیں ا س سے ان ملکو ں کی تقد یر بد ل رہی ہے اور صحیح معنو ں میں تبد یلی نظر آ ر ہی ہے ۔
مثا ل کے طو ر پر سر لنکا ، بر ما بنگلہ د یش ، ا فغا نستا ن اور پا کستا ن یہ و ہ پسما ند ہ مما لک ہیں جہا ں اس طر ح کے منصو بے ا نقلا ب کی حیثیت ر کھتے ہیں۔ ا ور آ نے وا لے د نو ں میں ا س طر ح کی تبد یلی سے اور ذ یا د ہ تر قی کے ا مکا نا ت رو شن ہو ں گے ۔اکیسو یں صد ی کی د نیا کو سب سے ذ یا د ہ مسا ئل ا س و قت د ہشتگر د ی اور ا نتہا پسند ی کا ہے اور ا گر تما م مما لک چین کے نظر یو ں کو لے کر چلیں تو د نیا میں ا من اور ا تفا ق کی فضا کو مز ؎ید فر و غ د یا جا سکتا ہے ۔
21صد ی کی تما م صو ر تحا ل کو مد نظر ر کھتے ہو ئے ا چھی طر ح ا ند ا ز ہ ہو تا ہے کہ چین کی کا میا بی کے پیچھے اس کی ا من کی پا لیسی پو شید ہ ہے ۔ عوا می جمہو ر یہ چین دنیا میں ا من کے سا تھ حکو مت کر نا چا ہتا ہے اور یہ ایشیا ء کی و ہ واحد طا قت ہے جو نہ صر ف اس خطے میں بلکہ پو ر ی د نیا میں ا من چا ہتا ہے ۔ چین کی خا ر جہ پا لیسی کے جو 5بنیا د ی ا صو ل ہیں و ہ اس کے مقا صد کو ا چھی طر ح وا ضح کر تے ہیں کہ آ نے و الے د نو ں میں چا ئنہ کی کیا حکمت عملی ہو گی ۔ ا مر یکہ ، اسر ا ئیل اور بھا ر ت کی طر ح چین کی پا لیسی نہیں کہ دو سر ے مما لک کے ا ند رو نی معملا ت میں بے جا مد ا خلت کر نے کے بجا ئے چین تما م قو مو ں کی خو د مختا ر ی کو عز ت کی نگاہ سے د یکھتا ہے ا و ر تما م قومو ں کے د ر میا ن ا من ا ور بر ا بر ی کی فضا ء کو فر و غ د ینے میں مصر و ف عمل ہے ۔ 9/11کے د ہشتگر د حملو ں نے پو ر ی د نیا کو اسلا م اور مسلما نو ں کے خلا ف کر د یا یہ و ہ و قت تھا جب ا مر یکہ اور اس کے اتحا د یو ں کی پو ر ی کو شش تھی کہ ہما لیہ سے ا و نچی سمند ر سے گہر ی ا ور شہد سے میٹھی اور لو ہے سے ذ یا د ہ مضبو ط پا کستا ن اور چین کی مثا لی دو ستی کو کسی نی کسی طر ح سے خر ا ب کیا جا سکے ۔ لیکن چین نے خطے کے بدلتے حا لا ت میں بھی سمجھ د ا ر ی کا ثبو ت د یا ہے ا ور د ہشتگر د ی کی نا م نہا د جنگ میں پا کستا ن کے کر د ار کی تعر یف کی اور د نیا پر یہ با ور کر و ایا کہ پا کستا ن ا یک ذ مہ د ار ر یا ست ہے اور پا کستان میں د ہشتگر د ی کے خلا ف بے شما ر قر با نیا ں د ی ہیں ۔پا کستا ن اور چین فر ینڈ شپ سنٹر کے سر بر اہ مشا ہد حسین سید کے بقو ل سی پیک دو نو ں مما لک کی دو ستی ، با ہمی تعا و ن اور ہم آ ہنگی کا عکا س ہے جس کود نیا ما ن ہی نہیں ر ہی بلکہ اس میں شا مل ہو نے کی خو ا ہش مند بھی ہے۔
21صد ی کا سب سے ا ہم وا قع چین کا ا ُ بھر نا ہے ۔کیو نکہ یہ ہما ر ے مفا د میں ہے کیو نکہ ا س وقت چا ئنہ پا کستا ن کا بہتر ین د وست ہے ۔
چین کا د نیا کے نقشے پر اُ بھر جا نے نشا ند ہی آ ج سے 85سا ل پہلے پا کستا ن کے قو می شا عر اور مفکرِ پا کستا ن نے کچھ ا س طر ح سے کی تھی ۔
گر ا ں خو ا ب چینی سنبھلنے لگے
ہما لیہ کے چشمے ا بلنے لگے

LEAVE A REPLY